ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 53

وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ ؕ وَ لَوۡ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ وَ لَیَاۡتِیَنَّہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۵۳﴾
اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب ضرور آجاتا اور یقینا وہ ان پر ضرور اچانک آئے گا اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں گے۔ En
اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو اُن پر عذاب آبھی گیا ہوتا۔ اور وہ (کسی وقت میں) اُن پر ضرور ناگہاں آکر رہے گا اور اُن کو معلوم بھی نہ ہوگا
En
یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں۔ اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آچکا ہوتا، یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آپہنچے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ یہ لوگ آپ سے جلد عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور اگر عذاب کا وقت مقرر نہ ہوتا تو وہ ان پر آچکا ہوتا اور وہ ان پر اس طرح اچانک آجائے گا کہ انہیں [85] خبر تک نہ ہو گی۔
[85] اس آیت میں جس عذاب کی جلدی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ دنیا کا عذاب ہے۔ اور وہ اللہ کے ضابطہ کے مطابق فتح مکہ کے دن آیا تھا۔ جب کفار مکہ کو یک دم مسلمانوں کی یلغار کی خبر ہوئی اور ان میں مقابلہ کی سکت ہی نہ رہی۔