کہہ دے اللہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ لوگ جو باطل پر ایمان لائے اور انھوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
En
کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے۔ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اُٹھانے والے ہیں
کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ گواه ہونا کافی ہے وه آسمان وزمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے ہیں وه زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْكَ٘فٰىبِاللّٰهِبَیْنِیْوَبَیْنَكُمْشَهِیْدًا ﴾”کہہ دیجیے کہ میرے اور تمھارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔“ اس لیے میں نے اسے گواہ بنایا ہے اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کا عبرتناک عذاب نازل ہو اگر اللہ تعالیٰ میری تائید اور مدد کرتا اور میرے لیے میرے تمام معاملات آسان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جلیل القدر شہادت تمھارے لیے کافی ہونی چاہیے اور اگر تمھارے دلوں میں یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت... جسے تم نے سنا ہے نہ دیکھا ہے… دلیل کے لیے کافی نہیں تو اللہ تعالیٰ﴿یَعْلَمُمَافِیالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ﴾”آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔“ میرا حال، تمھارا حال اور میری باتیں اس کے جملہ علم میں شامل ہیں۔ اگر میں نے اس پر جھوٹ گھڑا ہے، حالانکہ وہ اس کا علم رکھتا ہے اور مجھے سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے، تو یہ اس کے علم، قدرت اور حکمت میں قادح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْتَقَوَّلَعَلَیْنَابَعْضَالْاَقَاوِیْلِۙ۰۰لَاَخَذْنَامِنْهُبِالْیَمِیْنِۙ۰۰ثُمَّلَقَطَعْنَامِنْهُالْوَتِیْنَ﴾ (الحاقۃ: 69؍44-46) ”اور اگر اس نے ہم پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور، پھر اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔“
﴿وَالَّذِیْنَاٰمَنُوْابِالْبَاطِلِوَكَفَرُوْابِاللّٰهِ١ۙاُولٰٓىِٕكَهُمُالْخٰؔسِرُوْنَ ﴾”اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ کا انکار کیا، وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان نہ لا کر خسارے میں رہے اور چونکہ ان سے دائمی نعمتیں چھوٹ گئیں اور حق کے مقابلے میں باطل حاصل ہوا اور نعمتوں کے مقابلے میں الم ناک عذاب، اسی لیے وہ قیامت کے روز اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل كفى بالله بيني وبينَكم شهيداً}: فأنا قد استَشْهَدْتُه؛ فإنْ كنتُ كاذباً؛ أحلَّ بي ما به تعتبرون، وإنْ كان إنما يؤيِّدني، وينصرني، وييسِّر لي الأمور؛ فلتكفكمْ هذه الشهادةُ الجليلةُ من الله؛ فإنْ وقع في قلوبكم أنَّ شهادته ـ وأنتم لم تسمَعوه ولم تَرَوْه ـ لا تكفي دليلاً؛ فإنَّه {يعلم ما في السمواتِ والأرضِ}: ومن جملةِ معلوماته حالي وحالُكم ومقالي لكم ؛ فلو كنت متقوِّلاً عليه مع علمِهِ بذلك وقدرتِهِ على عقوبتي؛ لكان قدحاً في علمه وقدرته وحكمته؛ كما قال تعالى: {ولو تَقَوَّلَ عَلَينا بعضَ الأقاويل لأخَذْنا منه باليمينِ ثم لَقَطَعْنا منه الوتينَ}. {والذين آمنوا بالباطل وكفروا بالله أولئكَ هم الخاسرونَ}: حيث خَسِروا الإيمان بالله وملائكتِهِ وكتبِهِ ورسلِهِ واليوم الآخر، وحيث فاتهم النعيمُ المقيمُ، وحيث حَصَلَ لهم في مقابلة الحقِّ الصحيح كلُّ باطل قبيح، وفي مقابلة النعيم كلُّ عذاب أليم، فخسروا أنفسَهم وأهليهم يوم القيامةِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔