تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 54

یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ ؕ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیۡطَۃٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾
وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ بے شک جہنم یقینا کافروں کو گھیرنے والی ہے۔ En
یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کررہے ہیں۔ اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے
En
یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور (تسلی رکھیں) جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تاہم اگر ان پر دنیاوی عذاب نازل نہیں ہوا تو اخروی عذاب ان کے سامنے ہے جس سے کوئی شخص نہیں بچ سکے گا خواہ دنیا میں اس پر عذاب نازل ہوا ہو یا اسے مہلت دے دی گئی ہو۔ ﴿وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْ٘كٰفِرِیْنَ اور بے شک جہنم کافروں کو گھیرنے والا والی ہے۔ جہنم کا عذاب ان سے دور ہو گا نہ اسے ان سے ہٹایا جا سکے گا۔ جہنم کا عذاب انھیں ہر طرف سے گھیرلے گا جیسے ان کے گناہوں، ان کی برائیوں اور ان کے کفر نے انھیں گھیر رکھا ہے۔ یہ عذاب بہت سخت عذاب ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا؛ وإنْ لم ينزلْ عليهم العذابُ الدنيويُّ؛ فإنَّ أمامهم العذابَ الأخرويَّ الذي لا يَخْلُصُ منهم أحدٌ منه، سواءٌ عوجِلَ بعذاب الدنيا أو أُمْهِل، فَـ {إنَّ جهنَّم لمحيطةٌ بالكافرين}: ليس لهم عنه معدلٌ ولا متصرفٌ؛ قد أحاطتْ بهم من كلِّ جانب كما أحاطتْ بهم ذنوبُهم وسيئاتُهم وكفرُهم، وذلك العذابُ هو العذابُ الشديد.