ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 53

وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ ؕ وَ لَوۡ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ وَ لَیَاۡتِیَنَّہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۵۳﴾
اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب ضرور آجاتا اور یقینا وہ ان پر ضرور اچانک آئے گا اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں گے۔ En
اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو اُن پر عذاب آبھی گیا ہوتا۔ اور وہ (کسی وقت میں) اُن پر ضرور ناگہاں آکر رہے گا اور اُن کو معلوم بھی نہ ہوگا
En
یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں۔ اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آچکا ہوتا، یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آپہنچے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53) ➊ {وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ:} یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے اور آپ کا مذاق اڑانے کی ایک اور صورت ہے جو کفار نے اختیار کی کہ اگر ہم باطل پر ہیں تو ہم پر فوراً عذاب لے آؤ۔ جس عذاب سے تم ڈراتے ہو وہ کب آئے گا؟ اس عذاب سے ان کی مراد دنیا میں عذاب تھی۔
➋ { وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ:} فرمایا، اگر دنیا میں ان پر آنے والے عذاب کا اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر نہ کر دیا ہوتا، جو آگے پیچھے نہیں ہو سکتا، تو ان کے مطالبے کے وقت ہی عذاب آ جاتا۔
➌ { وَ لَيَاْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ:} اس امت میں پہلی امتوں کی طرح آسمانی عذاب کے بجائے مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو عذاب دینا طے کیا گیا، جیسا کہ فرمایا: «{ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ [التوبۃ: ۱۴] ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔ فرمایا، دنیا میں ان پر عذاب ضرور آئے گا مگر ان کے مطالبے پر فوراً نہیں، بلکہ مقرر وقت پر آئے گا اور اچانک آئے گا، جب ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بدر اور بعد کی جنگوں حتیٰ کہ فتح مکہ میں پورا ہو گیا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس امت کا عذاب یہی تھا، مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہونا، پکڑے جانا۔ سو فتح مکہ میں مکے کے لوگ بے خبر رہے کہ حضرت کا لشکر سر پر آکھڑا ہوا۔ (موضح)
➍ { اَجَلٌ مُّسَمًّى } (مقرر مدت) سے مراد موت اور پھر آخرت بھی ہو سکتی ہے، جس کا سلسلہ مرنے کے فوراً بعد شروع ہو جائے گا اور موت کے متعلق کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کب آجائے۔ مفسر ابن جزی نے فرمایا، یہ معنی زیادہ ظاہر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53-1یعنی پیغمبر کی بات ماننے کی بجائے، کہتے ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کروا دے۔ 53-2یعنی ان کے اعمال و اقوال تو یقینا اس لائق ہیں کہ انھیں فوراً صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے لیکن ہماری سنت ہے کہ ہر قوم کو ایک وقت خاص تک مہلت دیتے ہیں جب وہ مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو ہمارا عذاب آجاتا ہے۔ 53-3یعنی جب عذاب کا وقت مقرر آجائے گا تو اس طرح اچانک آئے گا کہ انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔ یہ وقت مقرر وہ ہے جو اس نے اہل مکہ کے لیے لکھ رکھا تھا یعنی جنگ بدر میں اسارت و قتل یا پھر قیامت کا وقوع ہے جس کے بعد کافروں کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ یہ لوگ آپ سے جلد عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اور اگر عذاب کا وقت مقرر نہ ہوتا تو وہ ان پر آچکا ہوتا اور وہ ان پر اس طرح اچانک آجائے گا کہ انہیں [85] خبر تک نہ ہو گی۔
[85] اس آیت میں جس عذاب کی جلدی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ دنیا کا عذاب ہے۔ اور وہ اللہ کے ضابطہ کے مطابق فتح مکہ کے دن آیا تھا۔ جب کفار مکہ کو یک دم مسلمانوں کی یلغار کی خبر ہوئی اور ان میں مقابلہ کی سکت ہی نہ رہی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت ٭٭
مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کہ ’ جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی درد ناک عذاب کر۔ ‘ ۱؎ [8-الأنفال:32]‏‏‏‏
یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العالمین یہ بات مقرر کر چکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہوں گے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ان کے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرور آئیں گے بلکہ ان کی بےخبری میں اچانک اور یک بہ یک آ پڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے یعنی یقیناً انہیں عذاب ہو گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جہنم یہی بحر اخضر ہے، ستارے اسی میں جھڑیں گے اور سورج، چاند اسی میں بے نور کر کے ڈال دئیے جائیں گے اور یہ بھڑک اٹھے گا اور جہنم بن جائے گا۔
مسند احمد میں مرفوع حدیث ہے کہ سمندر ہی جہنم ہے راوی حدیث یعلیٰ سے لوگوں نے کہا کہ کیا آپ لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا» یعنی ’ وہ آگ جسے قناتیں گھیرے ہوئے ہیں ‘ تو فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں یعلیٰ کی جان ہے کہ میں اس میں ہرگز داخل نہ ہوں گا جب تک کہ اللہ کے سامنے پیش نہ کیا جاؤں اور مجھے اس کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچے گا یہاں تک کہ میں اللہ کے سامنے پیش کیا جاؤں۔ یہ تفسیر بھی بہت غریب ہے اور یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے کہ اس دن انہیں نیچے سے آگ ڈھانک لے گی۔ جیسے اور آیت میں ہے «لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:41]‏‏‏‏ ’ ان کے لیے جہنم ہی اوڑھنا بچھونا ہے۔ ‘
اور آیت میں ہے «لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَــلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَــلٌ ذٰلِكَ يُخَــوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ» ۱؎ [39-الزمر:16]‏‏‏‏ یعنی ’ ان کے اوپر نیچے سے آگ ہی کا فرش و سائبان ہو گا۔ ‘

اور مقام پر ارشاد ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:39]‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیں جب کہ نہ یہ اپنے آگے سے آگ کو ہٹا سکیں گے نہ پیچھے سے۔ ‘
ان آیتوں سے معلوم ہو گیا کہ ہر طرف سے ان کفار کو آگ کھا رہی ہو گی، آگے پیچھے سے، اوپر نیچے سے، دائیں بائیں سے۔ تو اس پر اللہ عالم کی ڈانٹ ڈپٹ اور مصیبت ہو گی۔
ادھر ہر وقت کہا جائے گا: لو اب عذاب کے مزے چکھو۔ پس ایک تو وہ ظاہری، جسمانی عذاب، دوسرا یہ باطنی، روحانی عذاب۔ اسی کا ذکر آیت «يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ» ۱؎ [40-غافر:71]‏‏‏‏ اور آیت «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [52-الطور:13-16]‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ جبکہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ لو اب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ جس دن انہیں دھکے دے دے کر جہنم میں ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ وہ جہنم ہے جسے تم جھٹلاتے رہے۔ اب بتاؤ! یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب تمہارا صبر کرنا یا نہ کرنا یکساں ہے۔ تمہیں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور بھگتنا ہے۔ ‘

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی تکذیب کرنے والے جہلاء کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے اور تکذیب میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿مَتٰى هٰؔذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ (الملک:67؍25) یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْلَاۤ اَجَلٌ مُّ٘سَمًّى یعنی اگر اس عذاب کے لیے ایک مدت مقرر نہ کر دی گئی ہوتی ﴿لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ توان پر عذاب آچکا ہوتا۔ یعنی ان پر ہمیں عاجز اور بے بس سمجھنے اور حق کی تکذیب کرنے کی بنا پر عذاب نازل ہو جاتا۔ اگر ہم ان کو ان کی جہالت کی بنا پر پکڑتے تو ان کی باتیں انھیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث بن جاتیں، بایں ہمہ اس کے وقت نزول کو دور نہ سمجھیں کیونکہ یہ عذاب عنقریب ان کو پہنچے گا ﴿بَغْتَةً وَّهُمْ لَا یَشْ٘عُرُوْنَ اچانک اور ان کو معلوم بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جب وہ اتراتے اور تکبر کرتے ہوئے میدان بدر میں اترے تو وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کیا، ان کے بڑے بڑے سردار قتل ہو گئے اور تمام شریر لوگوں کا استیصال ہو گیا اور (مکہ میں) کوئی گھر نہ ایسا نہ بچا جسے یہ مصیبت نہ پہنچی ہو۔ ان پر اس طرح عذاب آیا کہ ان کو وہم و گمان اور شعور تک نہ تھا...
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن جهل المكذِّبين للرسول وما جاء به، وأنَّهم يقولون استعجالاً للعذاب وزيادةَ تكذيبٍ: {متى هذا الوعدُ إنْ كُنْتُم صادقينَ}؟ يقول تعالى: {ولولا أجلٌ مسمًّى}: مضروبٌ لنزولِهِ ولم يأتِ بعدُ، {لجاءهم العذابُ}: بسبب تعجيزِهِم لنا وتكذيِبِهم الحقَّ؛ فلو آخذناهم بجهلهم؛ لكان كلامُهم أسرعَ لبلائِهِم وعقوبتِهِم، ولكن مع ذلك؛ فلا يستبطِئون نزوله فإنه سيأتيهم {بغتةً وهم لا يشعرونَ} فوقع كما أخبر الله تعالى، لما قدموا لبدرٍ بَطِرينَ مفاخِرين ظانِّين أنَّهم قادرون على مقصودِهم، فأحانهم الله، وقتل كبارهم، واستوعبَ جملةَ أشرارِهم، ولم يَبْقَ منهم بيتٌ إلاَّ أصابتْه تلك المصيبة، فأتاهم العذابُ من حيث لم يحتَسِبوا، ونزل بهم وهم لا يشعرونَ.