ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 60

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ دَآبَّۃٍ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَہَا ٭ۖ اَللّٰہُ یَرۡزُقُہَا وَ اِیَّاکُمۡ ۫ۖ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۰﴾
اور کتنے ہی چلنے والے (جاندار) ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے، اللہ انھیں رزق دیتا ہے اور تمھیں بھی اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
En
اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے، وه بڑا ہی سننے جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 60) {وَ كَاَيِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا …:} ہجرت کرتے ہوئے جان کی فکر کے بعد ذہن میں آنے والی سب سے پہلی بات یہ ہوتی ہے کہ وطن سے نکلے تو کھائیں گے کہاں سے؟ اللہ تعالیٰ نے روزی کی طرف سے تسلی دلائی کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں، اللہ تعالیٰ کا رزق ساری مخلوق کے لیے عام ہے، جو بھی ہو اور جہاں بھی ہو۔ بلکہ جن لوگوں نے ہجرت کی ان کا رزق کثرت، وسعت اور عمدگی میں پہلے سے کہیں زیادہ ہوگیا، چنانچہ وہ تھوڑی مدت ہی میں تمام علاقوں میں شہروں کے حاکم بن گئے۔ اس لیے فرمایا، کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی ساتھ لیے نہیں پھرتے، ان کے گھروں میں کل کی خوراک نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ ان کے ہر نئے دن کے لیے نئی روزی کا بندوبست کرتا ہے اور ہر مخلوق کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، اسے بہم پہنچاتا ہے، حتیٰ کہ زمین کی تہ میں چیونٹیوں کو، ہوا میں پرندوں کو اور پانی میں مچھلیوں کو ان کی ضرورت کی ہر چیز وافر عطا فرماتا ہے۔ (دیکھیے سورۂ ہود: ۶) { وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ } وہ اپنی مخلوق کی ہر بات سنتا بھی ہے جانتا بھی ہے، اس لیے وہ ہر ایک کی روزی اس تک پہنچا دیتا ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: [لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرُزِقْتُمْ كَمَا تُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَ تَرُوْحُ بِطَانًا] [ترمذي، الزھد، باب في التوکل علی اللہ: ۲۳۴۴۔ ابن ماجہ: ۴۱۶۴، و صححہ الألباني] اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے تو تمھیں اسی طرح رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ کے ساتھ واپس آتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60-1کَاَیِّنْ میں کاف تشبیہ کا ہے اور معنی ہیں کتنے ہی یا بہت سے۔ 60-2کیونکہ اٹھا کرلے جانے کی ان میں ہمت نہیں ہوتی، اسی طرح وہ ذخیرہ بھی نہیں کرسکتے، مطلب یہ ہے کہ رزق کسی خاص جگہ کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ اللہ کا رزق اپنی مخلوق کے لئے عام ہے وہ جو بھی ہو جہاں بھی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کو جانے والے صحابہ کرام کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور پاکیزہ رزق عطا فرمایا، نیز تھوڑے ہی عرصے بعد انھیں عرب کے متعدد علاقوں کا حکمران بنادیا۔ 60-3یعنی کوئی کمزور ہے یا طاقتور، اسباب وسائل سے بہرہ ور ہے یا بےبہرہ اپنے وطن میں ہے یا مہاجر اور بےوطن، سب کا روزی رساں وہی اللہ ہے جو چیونٹی کو زمین کے کونوں کھدروں میں پرندوں کو ہواؤں میں اور مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کو سمندر کی گہرائیوں میں روزی پہنچاتا ہے اس موقع پر مطلب یہ ہے کہ فقر فاقہ کا ڈر ہجرت میں رکاوٹ نہ بنے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمام مخلوقات کی روزی کا ذمے دار ہے۔ 60-4وہ جاننے والا ہے تمہارے اعمال و افعال کو اور تمہارے ظاہر و باطن کو، اس لئے صرف اسی سے ڈرو، اس کے سوا کسی سے مت ڈرو! اسی کی اطاعت میں سعادت و کمال ہے اور اسی کی معصیت میں بدبختی و نقصان۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ اور کتنے ہی ایسے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ انہیں [92] رزق دیتا ہے اور تم کو بھی وہی دیتا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
[92] توکل کا مفہوم:۔
ہجرت کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ اپنے ذریعہ معاش کی فکر ہوتی ہے۔ مہاجر ایک تو اپنے وطن سے اپنا ذریعہ معاش چھوڑ کر جاتا ہے دوسرے اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ جہاں وہ ہجرت کر کے جا رہا ہے وہاں اس کے ذریعہ معاش کی کیا صورت ہو گی؟ ایسے خطرات کو اللہ کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے یقین کر لینے کا نام ہی توکل ہے۔ اور بتلایا یہ جا رہا ہے کہ بے شمار جاندار ایسے ہیں۔ ہر روز نئی روزی ملتی ہے اور جو اللہ جانوروں تک کو روزی پہنچاتا ہے وہ اپنے فرمانبرداروں کو کیوں نہ پہنچائے گا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرتے جیسا کرنے کا حق ہے تو تم کو بھی اسی طرح رزق دیا جاتا ہے جس طرح پرندوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ صبح بھوکے جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں“ [ترمذی۔ ابواب الزہد۔ باب ماجاء فی قلة الطعام]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوقات، خواہ وہ عاجز ہوں یا طاقت ور، سب کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ ﴿مِّنْ دَآبَّةٍ روئے زمین پر کتنے ہی کمزور اعضا اور کمزور عقل والے چوپائے ہیں ﴿لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا جو اپنا رزق نہیں اٹھائے پھرتے اور نہ وہ ذخیرہ کرتے ہیں بلکہ ان کے پاس رزق کے لیے کوئی چیز ہوتی ہی نہیں، مگر اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں وقت پر رزق مہیا کرتا ہے۔ ﴿اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَاِیَّاكُمْ اللہ ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ تم سب اللہ تعالیٰ کی کفالت میں ہو جو تمھارے رزق کا اسی طرح انتظام کرتا ہے جس طرح اس نے تمھاری تخلیق اور تدبیر کی ہے۔ ﴿وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ کوئی جانور عدم رزق کی بنا پر ہلاک نہیں ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہ گیا اور اسے رزق مہیا نہ ہو سکا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُ٘لٌّ فِیْؔ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (ہود:11؍6) اور زمین پر چلنے والا کوئی جان دار ایسا نہیں جس کے رزق کی کفالت اللہ کے ذمہ نہ ہو وہ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانا ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے ہر چیز ایک واضح کتاب میں درج ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: الباري تبارك وتعالى قد تكفَّل بأرزاق الخلائق كلِّهم قويِّهم وعاجزهم؛ فكم {من دابَّةٍ} في الأرض ضعيفةِ القُوى ضعيفة العقل، {لا تَحْمِلُ رزقَها}: ولا تدَّخِرُه، بل لم تزلْ لا شيء معها من الرزق، ولا يزال الله يسخِّرُ لها الرزقَ في كل وقت بوقته. {اللَّهُ يرزُقُها وإيَّاكم}: فكلكم عيالُ الله القائم برزقكم كما قام بِخَلْقِكُم وتدبيرِكم. {وهو السميعُ العليم}: فلا تخفى عليه خافيةٌ، ولا تهلكُ دابَّةٌ من عدم الرزق بسبب أنها خافيةٌ عليه؛ كما قال تعالى: {وما من دابَّةٍ في الأرض إلاَّ على الله رزقُها ويعلم مستقرَّها ومستَوْدَعَها كلٌّ في كتاب مبين}.