(آیت 59) ➊ { الَّذِيْنَصَبَرُوْا:} یعنی جنت کے بالا خانوں پر سرفراز ہونے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے دین اسلام اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر، گناہوں سے اجتناب پر، مشرکین کی ایذاؤں پر، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کی تکالیف پر صبر کیا، خویش واقارب اور وطن کو چھوڑا اور دشمنوں سے پنجہ آزما ہوئے۔ ➋ { وَعَلٰىرَبِّهِمْيَتَوَكَّلُوْنَ:} اور وہ ہمیشہ اپنے ہر کام میں صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔ وہ اپنے وطن، جائداد، کاروبار، دوست احباب، خویش و اقارب، غرض کسی چیز پر بھروسا نہیں کرتے، بلکہ صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہوئے اس کے راستے میں ہجرت اور جہاد کے لیے نکل جاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
59-1یعنی دین پر مضبوطی سے قائم رہے، ہجرت کی تکلیفیں برداشت کیں، اہل و عیال اور عزیز و اقربا سے دوری کو محض اللہ کی رضا کے لئے گوارا کیا۔ 59-2دین اور دنیا کے ہر معاملے اور حالات میں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ جنہوں نے (مصائب پر) صبر کیا اور اپنے پروردگار [91] پر بھروسہ رکھتے ہیں
[91] صبر کے مفہوم کا دائرہ، اخلاقی اقدار میں سر فہرست صبر ہے اور دوسرے نمبر پر توکل:۔
نیک اعمال میں سر فہرست صبر ہے۔ اور صبر کا لفظ بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو اللہ کی رضا کے لئے خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی صبر ہے۔ اور احکام شریعت سے استقلال کے ساتھ کاربند رہنا بھی صبر ہے۔ اور مالی مفادات کے ضیاع کو درخور اعتناء نہ سمجھنا بھی صبر ہے۔ اور نیک اعمال میں سے دوسرے نمبر پر اللہ پر توکل کا ذکر فرمایا۔ اللہ پر توکل کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے ان وعدوں پر یقین کیا جائے جو اس نے اپنے فرمانبردار بندوں سے کر رکھے ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ ان وعدوں کے پورا ہونے کے ظاہری اسباب بھی مفقود نظر آرہے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کی تفسیر آیت 56 میں تا آیت 60 میں گزر چکی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔