ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 60

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ دَآبَّۃٍ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَہَا ٭ۖ اَللّٰہُ یَرۡزُقُہَا وَ اِیَّاکُمۡ ۫ۖ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۰﴾
اور کتنے ہی چلنے والے (جاندار) ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے، اللہ انھیں رزق دیتا ہے اور تمھیں بھی اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
En
اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے، وه بڑا ہی سننے جاننے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ اور کتنے ہی ایسے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ انہیں [92] رزق دیتا ہے اور تم کو بھی وہی دیتا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
[92] توکل کا مفہوم:۔
ہجرت کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ اپنے ذریعہ معاش کی فکر ہوتی ہے۔ مہاجر ایک تو اپنے وطن سے اپنا ذریعہ معاش چھوڑ کر جاتا ہے دوسرے اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ جہاں وہ ہجرت کر کے جا رہا ہے وہاں اس کے ذریعہ معاش کی کیا صورت ہو گی؟ ایسے خطرات کو اللہ کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے یقین کر لینے کا نام ہی توکل ہے۔ اور بتلایا یہ جا رہا ہے کہ بے شمار جاندار ایسے ہیں۔ ہر روز نئی روزی ملتی ہے اور جو اللہ جانوروں تک کو روزی پہنچاتا ہے وہ اپنے فرمانبرداروں کو کیوں نہ پہنچائے گا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرتے جیسا کرنے کا حق ہے تو تم کو بھی اسی طرح رزق دیا جاتا ہے جس طرح پرندوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ صبح بھوکے جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں“ [ترمذی۔ ابواب الزہد۔ باب ماجاء فی قلة الطعام]