تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ:} یہ ان کی الٹی سوچ پر اور اپنے ہی قول کے خلاف عمل پر تعجب کا اظہارہے۔ یعنی جب تم مانتے ہو کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اور سورج و چاند کو مسخر کرنے والا ہے، تو عبادت میں کسی اور کو کیوں شریک کرتے ہو اور کسی اور پر بھروسا کیوں کرتے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر اپنے اکیلے رب اور مالک ہونے کو اپنے اکیلا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے، کیوں کہ مشرکین اس کا اعتراف کرتے تھے۔
➌ بعض مفسرین نے پچھلی آیت کے ساتھ اس آیت کی مناسبت یہ بیان کی ہے کہ اس آیت کے مخاطب فکر معاش کی وجہ سے ہجرت میں تردّد کرنے والے حضرات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زمین و آسمان، سورج اور چاند سب کو پیدا کرنے والا اور انھیں اپنے اپنے کام پر لگانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور انسان کی تمام ضروریاتِ زندگی اسی نظام سے وابستہ ہیں۔ انھی ضروریات میں سے ایک ضرورت کھانے پینے کی اور ذریعہ معاش کی ہے۔ تو مسلمان جہاں بھی ہجرت کر کے جائیں گے یہ سارا نظام وہاں بھی موجود ہو گا اور اللہ عزوجل انھیں وہاں بھی ایسے ہی روزی مہیا کرے گا جیسے یہاں کر رہا ہے، تو یہ لوگ کہاں بہکائے جارہے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، سب پر قابض صرف وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں؟
جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے۔ قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت ہے۔ اس لیے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی، انہیں قائل معقول کر کے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔
{ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے، کہتے تھے: «لَبَیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ» یعنی یا اللہ! ہم حاضر ہوئے، تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1185]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا استدلالٌ على المشركين المكذِّبين بتوحيد الإلهية والعبادة، وإلزامٌ لهم بما أثبتوه من توحيد الرُّبوبية؛ فأنتَ لو {سألتَهم مَنْ خلق السمواتِ والأرضَ}؟ ومَنْ نزَّل من السماء ماءً فأحيا به الأرض بعد موتها؟ ومن بيدِهِ تدبير جميع الأشياء؟ {ليقولنَّ: الله} وحدَه، ولاعترفوا بعجز الأوثان ومَنْ عَبَدوه مع الله على شيء من ذلك! فاعْجَبْ لإفكهم وكذِبِهم وعُدولهم إلى مَنْ أقرُّوا بعجزه وأنه لا يستحقُّ أن يدبِّرَ شيئاً! وستجِلُّ عليهم لعدم العقل، وأنَّهم السفهاء ضعفاء الأحلام! فهل تجد أضعف عقلاً وأقلَّ بصيرةً ممَّن أتى إلى حجر أو قبر ونحوه - وهو يدري أنَّه لا ينفعُ ولا يضرُّ ولا يخلقُ ولا يرزقُ ـ، ثم صرف له خالصَ الإخلاص وصافي العبوديَّة، وأشركه مع الربِّ الخالق الرازق النافع الضار؟! وقل: الحمدُ لله الذي بيَّن الهدى من الضلال، وأوضح بطلان ما عليه المشركون؛ ليحذره الموفَّقون. وقل: الحمدُ لله الذي خَلَقَ العالمَ العلويَّ والسفليَّ، وقام بتدبيرهم ورزقِهِم، وبسطَ الرزقَ على مَنْ يشاء، وضيَّقه على من يشاء حكمةً منه، ولعلمه بما يُصْلِحُ عباده، وما ينبغي لهم.