ترجمہ و تفسیر — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 61

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ۚ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے، پھر کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔ En
اور اگر اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا تو کہہ دیں گے خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں اُلٹے جا رہے ہیں
En
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین وآسمان کا خالق اور سورج چاند کو کام میں لگانے واﻻ کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ، پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61) ➊ { وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …:} یہاں سے کلام کا رُخ پھر اہلِ مکہ کی طرف ہو گیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے معبودِ واحد ہونے کی دلیل کے طور پر مشرکینِ مکہ کے اس اعتراف کا ذکر ہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چنانچہ فرمایا، اے رسول! یا اے مخاطب! اگر تو ان مشرکین سے پوچھے کہ وہ کون ہے جس نے یہ سب آسمان پیدا کیے اور یہ زمین پیدا کی؟ اور وہ کون ہے جس نے تمھارے فائدے کے لیے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا؟ تو یقینا وہ کسی تردّد کے بغیر کہیں گے کہ وہ الله ہے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا آج تک کسی نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ میں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور میں نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے۔ اس لیے کتنا بڑے سے بڑا مشرک ہو، اسے یہ حقیقت ماننے کے بغیر چارہ نہیں۔
➋ { فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ:} یہ ان کی الٹی سوچ پر اور اپنے ہی قول کے خلاف عمل پر تعجب کا اظہارہے۔ یعنی جب تم مانتے ہو کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اور سورج و چاند کو مسخر کرنے والا ہے، تو عبادت میں کسی اور کو کیوں شریک کرتے ہو اور کسی اور پر بھروسا کیوں کرتے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر اپنے اکیلے رب اور مالک ہونے کو اپنے اکیلا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے، کیوں کہ مشرکین اس کا اعتراف کرتے تھے۔
➌ بعض مفسرین نے پچھلی آیت کے ساتھ اس آیت کی مناسبت یہ بیان کی ہے کہ اس آیت کے مخاطب فکر معاش کی وجہ سے ہجرت میں تردّد کرنے والے حضرات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زمین و آسمان، سورج اور چاند سب کو پیدا کرنے والا اور انھیں اپنے اپنے کام پر لگانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور انسان کی تمام ضروریاتِ زندگی اسی نظام سے وابستہ ہیں۔ انھی ضروریات میں سے ایک ضرورت کھانے پینے کی اور ذریعہ معاش کی ہے۔ تو مسلمان جہاں بھی ہجرت کر کے جائیں گے یہ سارا نظام وہاں بھی موجود ہو گا اور اللہ عزوجل انھیں وہاں بھی ایسے ہی روزی مہیا کرے گا جیسے یہاں کر رہا ہے، تو یہ لوگ کہاں بہکائے جارہے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61-1یعنی یہ مشرکین، جو مسلمان کو محض توحید کی وجہ سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں، ان سے اگر پوچھا جائے کہ آسمان و زمین کو عدم وجود میں لانے والا اور سورج اور چاند کو اپنے اپنے مدار پر چلانے والا کون ہے؟ تو وہاں یہ اعتراف کئے بغیر انھیں چارہ نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ کرنے والا اللہ ہے 61-2 یعنی دلائل اور و اعتراف کے باوجود حق سے انکار اور گریز باعث تعجب ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر [93] یہ کہاں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں؟
[93] یہ خطاب صرف مہاجرین کو ہی نہیں بلکہ اس خطاب میں سب مشترک ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زمین و آسمان اور سورج اور چاند، سب کو پیدا کرنے والا اور انھیں اپنے اپنے کام پر لگانے والا اللہ ہے۔ اور انسان کی تمام ضروریات زندگی اسی نظام سے وابستہ ہیں۔ انھیں ضروریات میں سے ایک ضرورت کھانے پینے کی اور ذریعہ معاش کی ضرورت ہے۔ تو مسلمان جہاں بھی ہجرت کر کے جائیں گے۔ یہ سارا نظام وہاں بھی موجود ہو گا اور اللہ تمہیں وہاں بھی ایسے ہی روزی مہیا کرے گا جیسے یہاں کر رہا ہے لہٰذا اس پر توکل کرو۔ اور اس خطاب کا روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تمہاری زندگی اور زندگی کا بقا کا سارا سامان تو اللہ نے مہیا کیا ہے۔ پھر تم اپنے معبودوں کو اللہ کے شریک اور مدمقابل کیسے ٹھہراتے ہو؟ یہ کہاں سے تمہیں عقل کا پھیر لگ جاتا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

توحید ربویت توحید الوہیت ٭٭
اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ خود مشرکین بھی اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا، سورج کو مسخر کرنے والا، دن رات کو پے در پے لانے والا، خالق، رازق، موت و حیات پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ غنا کے لائق کون ہے اور فقر کے لائق کون ہے؟ اپنے بندوں کی مصلحتیں اس کو پوری طرح معلوم ہیں۔
پس جبکہ مشرکین خود مانتے ہیں کہ تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، سب پر قابض صرف وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟ اور اس کے سوا دوسروں پر توکل کیوں کرتے ہیں؟
جبکہ ملک کا مالک وہ تنہا ہے تو عبادتوں کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ توحید ربوبیت کو مان کر پھر توحید الوہیت سے انحراف عجیب چیز ہے۔ قرآن کریم میں توحید ربوبیت کے ساتھ ہی توحید الوہیت کا ذکر بکثرت ہے۔ اس لیے کہ توحید ربویت کے قائل مشرکین مکہ تو تھے ہی، انہیں قائل معقول کر کے پھر توحید الوہیت کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔
{ مشرکین حج و عمرے میں لبیک پکارتے ہوئے بھی اللہ کے لاشریک ہونے کا اقرار کرتے تھے، کہتے تھے: «لَبَیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ» یعنی یا اللہ! ہم حاضر ہوئے، تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کا مالک اور جن کے ملک کا مالک بھی تو ہی ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1185]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان آیات کریمہ میں مشرکین کے خلاف، جو توحید الوہیت اور توحید عبادت کی تکذیب کرتے ہیں… توحید ربوبیت کے ذریعے سے، جس کا وہ اقرار کرتے ہیں..... الزامی استدلال کیا گیا ہے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ زمین اور آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟ کون ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے زمین کے مرنے کے بعد اس کو زندگی عطا کرتا ہے اور کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تدبیر ہے؟ ﴿لَیَقُوْلُ٘نَّ اللّٰهُ تو وہ جواب دیں گے کہ اکیلے اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ان تمام امور میں بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی، جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، بے بسی کا اعتراف کریں گے۔ ان کے جھوٹ اور بہتان طرازی پر تعجب کیجیے کہ وہ خود ساختہ معبودوں کی عاجزی اور بے بسی کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ کسی چیز کی تدبیر کرنے کے مستحق نہیں بایں ہمہ وہ ان کی عبادت کی طرف مائل ہیں۔ آپ ان کو لوگوں کی اس فہرست میں لکھ دیجیے جن میں عقل معدوم ہے، جو بے وقوف اور ضعیف العقل ہیں۔ کیا آپ کسی کو اس شخص سے زیادہ کم عقل اور بے بصیرت پائیں گے جو اپنی حاجت روائی کے لیے کسی پتھر کے بت یا قبر کے پاس آتا ہے حالانکہ اسے علم ہے کہ وہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ جو تخلیق پر قادر ہیں نہ رزق رسانی پر؟ پھر ان کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہیں اور انھیں اپنے رب کا شریک بنا دیتے ہیں جو خالق و رزاق اور نفع و نقصان کا مالک ہے۔
آپ کہہ دیجیے کہ ہر قسم کی حمد و ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہدایت اور گمراہی کو کھول کھول کر بیان کر دیا اور مشرکین کے موقف کا بطلان واضح کر دیا تاکہ اہل ایمان اس سے بچے رہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ہر قسم کی حمدوستائش کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو تخلیق فرمایا، جو ان کی تدبیر کرتا ہے، جو ان کو رزق بہم پہنچاتا ہے، جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رزق کو تنگ کر دیتا ہے یہ اس کی حکمت پر مبنی ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ اس کے بندوں کے لیے درست اور مناسب کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا استدلالٌ على المشركين المكذِّبين بتوحيد الإلهية والعبادة، وإلزامٌ لهم بما أثبتوه من توحيد الرُّبوبية؛ فأنتَ لو {سألتَهم مَنْ خلق السمواتِ والأرضَ}؟ ومَنْ نزَّل من السماء ماءً فأحيا به الأرض بعد موتها؟ ومن بيدِهِ تدبير جميع الأشياء؟ {ليقولنَّ: الله} وحدَه، ولاعترفوا بعجز الأوثان ومَنْ عَبَدوه مع الله على شيء من ذلك! فاعْجَبْ لإفكهم وكذِبِهم وعُدولهم إلى مَنْ أقرُّوا بعجزه وأنه لا يستحقُّ أن يدبِّرَ شيئاً! وستجِلُّ عليهم لعدم العقل، وأنَّهم السفهاء ضعفاء الأحلام! فهل تجد أضعف عقلاً وأقلَّ بصيرةً ممَّن أتى إلى حجر أو قبر ونحوه - وهو يدري أنَّه لا ينفعُ ولا يضرُّ ولا يخلقُ ولا يرزقُ ـ، ثم صرف له خالصَ الإخلاص وصافي العبوديَّة، وأشركه مع الربِّ الخالق الرازق النافع الضار؟! وقل: الحمدُ لله الذي بيَّن الهدى من الضلال، وأوضح بطلان ما عليه المشركون؛ ليحذره الموفَّقون. وقل: الحمدُ لله الذي خَلَقَ العالمَ العلويَّ والسفليَّ، وقام بتدبيرهم ورزقِهِم، وبسطَ الرزقَ على مَنْ يشاء، وضيَّقه على من يشاء حكمةً منه، ولعلمه بما يُصْلِحُ عباده، وما ينبغي لهم.