تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 60

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ دَآبَّۃٍ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَہَا ٭ۖ اَللّٰہُ یَرۡزُقُہَا وَ اِیَّاکُمۡ ۫ۖ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۰﴾
اور کتنے ہی چلنے والے (جاندار) ہیں جو اپنا رزق نہیں اٹھاتے، اللہ انھیں رزق دیتا ہے اور تمھیں بھی اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے
En
اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے، ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے، وه بڑا ہی سننے جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوقات، خواہ وہ عاجز ہوں یا طاقت ور، سب کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ ﴿مِّنْ دَآبَّةٍ روئے زمین پر کتنے ہی کمزور اعضا اور کمزور عقل والے چوپائے ہیں ﴿لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا جو اپنا رزق نہیں اٹھائے پھرتے اور نہ وہ ذخیرہ کرتے ہیں بلکہ ان کے پاس رزق کے لیے کوئی چیز ہوتی ہی نہیں، مگر اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں وقت پر رزق مہیا کرتا ہے۔ ﴿اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَاِیَّاكُمْ اللہ ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ تم سب اللہ تعالیٰ کی کفالت میں ہو جو تمھارے رزق کا اسی طرح انتظام کرتا ہے جس طرح اس نے تمھاری تخلیق اور تدبیر کی ہے۔ ﴿وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ کوئی جانور عدم رزق کی بنا پر ہلاک نہیں ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہ گیا اور اسے رزق مہیا نہ ہو سکا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُ٘لٌّ فِیْؔ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ (ہود:11؍6) اور زمین پر چلنے والا کوئی جان دار ایسا نہیں جس کے رزق کی کفالت اللہ کے ذمہ نہ ہو وہ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانا ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے ہر چیز ایک واضح کتاب میں درج ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: الباري تبارك وتعالى قد تكفَّل بأرزاق الخلائق كلِّهم قويِّهم وعاجزهم؛ فكم {من دابَّةٍ} في الأرض ضعيفةِ القُوى ضعيفة العقل، {لا تَحْمِلُ رزقَها}: ولا تدَّخِرُه، بل لم تزلْ لا شيء معها من الرزق، ولا يزال الله يسخِّرُ لها الرزقَ في كل وقت بوقته. {اللَّهُ يرزُقُها وإيَّاكم}: فكلكم عيالُ الله القائم برزقكم كما قام بِخَلْقِكُم وتدبيرِكم. {وهو السميعُ العليم}: فلا تخفى عليه خافيةٌ، ولا تهلكُ دابَّةٌ من عدم الرزق بسبب أنها خافيةٌ عليه؛ كما قال تعالى: {وما من دابَّةٍ في الأرض إلاَّ على الله رزقُها ويعلم مستقرَّها ومستَوْدَعَها كلٌّ في كتاب مبين}.