کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث کی علت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَانَ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَنِي مَنْ، لَا أَتَّهِمُ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، مَا السُّنَّةُ فِيهِ؟ قَالَ: " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ، بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو کافر تھا، پھر وہ ایک مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہو جاتا ہے، اس میں طریقہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کی زندگی و موت کا زیادہ حق دار ہے۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ..
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ. قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: هَذَا خَطَأٌ، ابْنُ مَوْهَبٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ، وَلَا لَحِقَهُ..
حافظ ثناء اللہ
ایضاً
یعقوب بن سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ غلطی ہے، ابن موہب نے تمیم سے نہیں سنا اور نہ ہی ان سے ملاقات کی۔
یعقوب بن سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ غلطی ہے، ابن موہب نے تمیم سے نہیں سنا اور نہ ہی ان سے ملاقات کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کافر انسان مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہو جائے تو اس میں کیا طریقہ ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمام لوگوں سے زیادہ اس کی زندگی و موت کا حق دار ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ لَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ: ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَوْهَبٍ سَمِعَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، وَلَا يَصِحُّ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ..
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن حمزہ نے یہ حدیث اسی مفہوم کے ساتھ ذکر کی، پھر محمد (بن اسماعیل بخاری) رحمہ اللہ نے فرمایا: بعض نے کہا ہے کہ عبداللہ بن موہب نے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، نبی ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”ولاء تو اسی کی ہے جس نے آزاد کیا۔“
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: اسے یزید بن خالد بن موہب رملی نے بھی یحییٰ بن حمزہ سے روایت کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: اسے یزید بن خالد بن موہب رملی نے بھی یحییٰ بن حمزہ سے روایت کیا ہے۔
كَمَا، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، عَنْ ⦗٥٠١⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَوْهَبٍ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ هِشَامٌ: عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَقَالَ يَزِيدُ: إِنَّ تَمِيمًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " فَعَادَ الْحَدِيثُ مَعَ ذِكْرِ قَبِيصَةَ فِيهِ إِلَى الْإِرْسَالِ..
حافظ ثناء اللہ
یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر کافر مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلے تو طریقہ کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگوں سے زیادہ اس کی زندگی و موت کا حق دار ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: تو قبیصہ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث پھر سے مرسل ہو گئی۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: تو قبیصہ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث پھر سے مرسل ہو گئی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، الرَّجُلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ؟ قَالَ: " هُوَ أَوْلَى بِهِ فِي حَيَاتِهِ وَمَمَاتِهِ " كَذَا قَالَ ابْنُ وَهْبٍ..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن وہب، حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ (انہوں نے عرض کیا:) ”اے اللہ کے رسول! مشرک آدمی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیتا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کی زندگی و موت میں اس کا زیادہ حق دار ہے۔“
(راوی نے) اسی طرح ابن وہب کہا ہے۔
(راوی نے) اسی طرح ابن وہب کہا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، فَذَكَرَهُ. وَقَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَوْهَبٍ..
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث ہی کی ایک اور سند ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِثَابِتٍ، إِنَّمَا يَرْوِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَابْنُ مَوْهَبٍ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عِنْدَنَا، وَلَا نَعْلَمُهُ لَقِيَ تَمِيمًا. وَمِثْلُ هَذَا لَا يَثْبُتُ عِنْدَنَا وَلَا عِنْدَكَ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ مَجْهُولٌ، وَلَا أَعْلَمُهُ مُتَّصِلًا..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: ”یہ ثابت نہیں ہے، اسے صرف عبدالعزیز بن عمر، ابن موہب سے اور وہ تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابن موہب ہمارے نزدیک معروف نہیں، اور نہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ تمیم سے ملے ہوں۔ اور اس جیسی روایت نہ ہمارے نزدیک ثابت ہوتی ہے نہ تمہارے نزدیک، کیونکہ وہ (راوی) مجہول ہے، اور میں اسے متصل بھی نہیں جانتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيِ رَجُلٍ فَلَهُ وَلَاؤُهُ ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: " سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ الشَّامِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، تَرَكُوهُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى أَيْضًا ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِهِ..
حافظ ثناء اللہ
ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تو اس کے لیے ولاء ہوگی۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جعفر بن زبیر شامی، قاسم سے روایت میں متروک الحدیث ہے، محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے۔ اسے معاویہ بن یحییٰ صدفی نے بھی قاسم سے روایت کیا ہے، اور معاویہ بن یحییٰ بھی ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں لی جاتی۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جعفر بن زبیر شامی، قاسم سے روایت میں متروک الحدیث ہے، محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے۔ اسے معاویہ بن یحییٰ صدفی نے بھی قاسم سے روایت کیا ہے، اور معاویہ بن یحییٰ بھی ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں لی جاتی۔