السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في علة حديث روي فيه، عن تميم الداري مرفوعا. باب: حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث کی علت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21455
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَانَ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَنِي مَنْ، لَا أَتَّهِمُ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، مَا السُّنَّةُ فِيهِ؟ قَالَ: " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ، بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو کافر تھا، پھر وہ ایک مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہو جاتا ہے، اس میں طریقہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کی زندگی و موت کا زیادہ حق دار ہے۔“