❮
❯
حدیث نمبر: 21459
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ لَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ: ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَوْهَبٍ سَمِعَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، وَلَا يَصِحُّ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ..
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن حمزہ نے یہ حدیث اسی مفہوم کے ساتھ ذکر کی، پھر محمد (بن اسماعیل بخاری) رحمہ اللہ نے فرمایا: بعض نے کہا ہے کہ عبداللہ بن موہب نے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، نبی ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”ولاء تو اسی کی ہے جس نے آزاد کیا۔“
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: اسے یزید بن خالد بن موہب رملی نے بھی یحییٰ بن حمزہ سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الولاء / حدیث: 21459
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ للبخاري»