السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في علة حديث روي فيه، عن تميم الداري مرفوعا. باب: حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث کی علت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21463
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِثَابِتٍ، إِنَّمَا يَرْوِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَابْنُ مَوْهَبٍ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عِنْدَنَا، وَلَا نَعْلَمُهُ لَقِيَ تَمِيمًا. وَمِثْلُ هَذَا لَا يَثْبُتُ عِنْدَنَا وَلَا عِنْدَكَ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ مَجْهُولٌ، وَلَا أَعْلَمُهُ مُتَّصِلًا..حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: ”یہ ثابت نہیں ہے، اسے صرف عبدالعزیز بن عمر، ابن موہب سے اور وہ تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابن موہب ہمارے نزدیک معروف نہیں، اور نہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ تمیم سے ملے ہوں۔ اور اس جیسی روایت نہ ہمارے نزدیک ثابت ہوتی ہے نہ تمہارے نزدیک، کیونکہ وہ (راوی) مجہول ہے، اور میں اسے متصل بھی نہیں جانتا۔“