کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آدمی کا اپنا حق اس شخص سے وصول کرنا جو اسے اس سے روکتا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي: الطَّرَائِفِيَّ ثنا أَبُو سَعِيدٍ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ - وَهُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ هِنْدًا، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، أَعَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ سِرًّا؟ قَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہند نے نبی ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان کنجوس آدمی ہے، کیا میں اس کے مال سے پوشیدہ طور پر لے لوں؟ ”اتنا لے لو جتنا آپ کے بچوں اور تجھے دستور کے مطابق کافی ہو۔“ [صحیح۔ متفق علیہ]
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَا يُنْفِقُ عَلَيَّ وَلَا عَلَى وَلَدِي مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ، أَفَآخُذُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ؟ فَقَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ ". وَفِي رِوَايَةِ أَنَسِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ سِرًّا وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ؟ ثُمَّ ذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہند رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! ابوسفیان کنجوس، بخیل آدمی ہے، وہ مجھ پر اور اپنی اولاد پر اتنا خرچ نہیں کرتا جو مجھے یا میری اولاد کو کفایت کر جائے، تو کیا اس کو معلوم نہ ہو تو اس کا مال لے لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اتنا لے لو جتنا تجھے اور تیری اولاد کو دستور کے مطابق کفایت کر جائے۔“
(ب) انس بن عیاض کی روایت میں ہے کہ وہ مجھے نہیں دیتا جو مجھے اور میری اولاد کو کفایت کر جائے، لیکن مخفی طور پر جو لے لوں اور اس کو معلوم نہ ہو، تو کیا میرے اوپر کوئی گناہ تو نہیں ہے؟ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(ب) انس بن عیاض کی روایت میں ہے کہ وہ مجھے نہیں دیتا جو مجھے اور میری اولاد کو کفایت کر جائے، لیکن مخفی طور پر جو لے لوں اور اس کو معلوم نہ ہو، تو کیا میرے اوپر کوئی گناہ تو نہیں ہے؟ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ح وَأَخْبَرَنَا ⦗٤٥٦⦘ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلِيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلِيَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، قَالَ: " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ "، ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ فِي أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالًا؟ قَالَ: " لَا، بِالْمَعْرُوفِ ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ: فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أَطْعَمَ مِنَ الَّذِي لَهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، بِالْمَعْرُوفِ ". وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ، وَشَكَّ ابْنُ بُكَيْرٍ فِي: إِحْيَاءٍ، أَوْ خِبَاءٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ نے نبی ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی گھرانا ایسا نہ تھا جس کا ذلیل ہونا مجھے آپ ﷺ کے گھرانے سے زیادہ محبوب ہو، پھر آج روئے زمین پر کوئی گھرانا ایسا نہیں جس کا عزت پانا مجھے آپ ﷺ کے گھرانے سے زیادہ محبوب ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اسی طرح (میرا حال ہے)، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ پھر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، اگر اس کے مال میں سے اس کے عیال کو کھلاؤں تو گناہ تو نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلائی سے کھلاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُهَاجِرِ أَنَّهُ سَمِعَ الْمِقْدَامَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ لَهُ بِقِرَاهُ مِنْ مَالِهِ وَزَرْعِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس نے کسی مسلمان کے یہاں قیام کیا اور وہ (مہمان) محروم رہا، تو مسلمانوں کا حق ہے کہ اس کی مدد کریں، یہاں تک کہ وہ اپنی مہمانی کے بقدر اس کے مال اور اس کی کھیتی سے لے لے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَنَا، فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأُمِرَ لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنِ اللَّيْثِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ہم کو روانہ کرتے ہیں، اگر ہم کسی قوم کے پاس جاتے ہیں اور وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتی تو آپ ﷺ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ تمہاری مہمانی کریں جو مہمان کے شایانِ شان ہے تو قبول کر لو، اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو مہمان کا مناسب حق لے سکتے ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ كَانَ وَلِيَّهُمْ، فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ، فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ أَمْوَالَهُمْ مِثْلَهَا، قَالَ: قُلْتُ: اقْبِضِ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ⦗٤٥٧⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَدِّ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
یوسف بن ماہک مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں فلاں شخص کے لیے یتیموں کا خرچہ لکھا کرتا تھا جن کا وہ والی تھا۔ انہوں نے (حساب میں) اس سے ایک ہزار درہم کا دھوکہ کیا تو اس نے وہ رقم انہیں ادا کر دی، پھر مجھے ان کے مال میں سے اتنی ہی رقم مل گئی۔ میں نے کہا: ”جو ہزار درہم وہ تم سے لے گئے تھے وہ لے لو۔“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ کیونکہ میرے والد نے مجھے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ» ”اس کو ادا کرو جو آپ کو امین بنائے، اس سے خیانت نہ کرو جو آپ سے خیانت کرے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ النَّخَعِيُّ، أنبأ شَرِيكٌ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ "، قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: قُلْتُ لِطَلْقٍ: أَكْتُبُ شَرِيكًا وَأَدَعُ قَيْسًا، قَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ. الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ فِي حُكْمِ الْمُنْقَطِعِ، حَيْثُ لَمْ يَذْكُرْ يُوسُفُ بْنُ مَاهَكٍ اسْمَ مَنْ حَدَّثَهُ، وَلَا اسْمَ مَنْ حَدَّثَ عَنْهُ مَنْ حَدَّثَهُ، وَحَدِيثُ أَبِي حُصَيْنٍ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْهُ شَرِيكٌ الْقَاضِي، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَيْسٌ ضَعِيفٌ، وَشَرِيكٌ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَإِنَّمَا ذَكَرَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الشَّوَاهِدِ، وَرُوِيَ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا ضَعِيفٌ، لِأَنَّ مَكْحُولًا لَا يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ شَيْئًا، وَأَبُو حَفْصٍ الدِّمَشْقِيُّ هَذَا مَجْهُولٌ، وَرُوِيَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تجھے امین خیال کرے اس کی امانت ادا کر اور جو کوئی تجھ سے خیانت کرے تو آپ خیانت نہ کریں۔“ ابوفضل کہتے ہیں: میں نے طلق سے کہا: میں شریک کے لیے لکھتا ہوں اور قیس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ فرمایا: آپ بہتر جانتے ہیں۔
پہلی حدیث منقطع کے حکم میں ہے، کیونکہ یوسف بن ماہک نے نہ اس شخص کا نام ذکر کیا جس نے انہیں حدیث بیان کی اور نہ اس کا جس سے اس نے روایت کی۔ ابو حصین کی حدیث کو ان سے صرف شریک قاضی اور قیس بن ربیع نے روایت کیا ہے، قیس ضعیف ہے اور شریک سے اکثر محدثین نے حجت نہیں پکڑی، امام مسلم بن حجاج نے انہیں صرف شواہد میں ذکر کیا ہے۔ یہ روایت ابو حفص دمشقی سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے ابو امامہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے بھی روایت کی گئی ہے، اور یہ ضعیف ہے، کیونکہ مکحول نے ابو امامہ سے کچھ نہیں سنا اور یہ ابو حفص دمشقی مجہول ہے۔ نیز یہ حسن سے، انہوں نے نبی ﷺ سے بھی مروی ہے اور یہ منقطع ہے۔
پہلی حدیث منقطع کے حکم میں ہے، کیونکہ یوسف بن ماہک نے نہ اس شخص کا نام ذکر کیا جس نے انہیں حدیث بیان کی اور نہ اس کا جس سے اس نے روایت کی۔ ابو حصین کی حدیث کو ان سے صرف شریک قاضی اور قیس بن ربیع نے روایت کیا ہے، قیس ضعیف ہے اور شریک سے اکثر محدثین نے حجت نہیں پکڑی، امام مسلم بن حجاج نے انہیں صرف شواہد میں ذکر کیا ہے۔ یہ روایت ابو حفص دمشقی سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے ابو امامہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے بھی روایت کی گئی ہے، اور یہ ضعیف ہے، کیونکہ مکحول نے ابو امامہ سے کچھ نہیں سنا اور یہ ابو حفص دمشقی مجہول ہے۔ نیز یہ حسن سے، انہوں نے نبی ﷺ سے بھی مروی ہے اور یہ منقطع ہے۔
وَرَوَاهُ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، مَرْفُوعًا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَطَّارُ الْحِيرِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الْخَصَّافُ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ سُوَيْدٍ، حَدَّثَهُمْ فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
اسے ایوب بن سوید نے، جو ضعیف ہے، ابن شوذب سے، انہوں نے ابو التیاح سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
اسے ایوب بن سوید نے، جو ضعیف ہے، ابن شوذب سے، انہوں نے ابو التیاح سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " لَيْسَ بِثَابِتٍ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْكُمْ، وَلَوْ كَانَ ثَابِتًا لَمْ يَكُنْ فِيهِ حُجَّةٌ عَلَيْنَا، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: إِذَا دَلَّتِ السُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ كَثِيرٍ مِنْ أَهْلِ ⦗٤٥٨⦘ الْعِلْمِ عَلَى أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ حَقَّهُ لِنَفْسِهِ سِرًّا مِنَ الَّذِي هُوَ عَلَيْهِ فَقَدْ دَلَّ أَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِخِيَانَةٍ، الْخِيَانَةُ أَخْذُ مَا لَا يَحِلُّ أَخْذُهُ، فَلَوْ خَانَنِي دِرْهَمًا فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحَلَّ خِيَانَتِي، لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ آخُذَ مِنْهُ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ مُكَافَأَةً بِخِيَانَتِهِ لِي، وَكَانَ لِي أَنْ آخُذَ دِرْهَمًا، وَلَا أَكُونَ بِهَذَا خَائِنًا ظَالِمًا كَمَا كُنْتُ خَائِنًا ظَالِمًا بِأَخْذِ تِسْعَةٍ مَعَ دِرْهَمِي، لِأَنَّهُ لَمْ يَخُنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث تمہارے محدثین کے ہاں ثابت نہیں ہے۔ اگر ثابت ہو بھی تو بھی یہ ہمارے خلاف دلیل نہیں بن سکتی۔ پھر دورانِ گفتگو فرمایا: سنت اور اکثر اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ آدمی اپنا حق اپنے مخالف سے چھپا کر لے سکتا ہے، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کرنا خیانت نہیں ہے۔ اگر میں کہوں کہ اس نے مجھ سے ایک درہم میں خیانت کی ہے، پھر میرے لیے اس کے بدلے میں دس دراہم تک خیانت کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ میں ایک درہم لے سکتا ہوں اور اس میں میں خائن نہیں ہوں گا، جیسا کہ میں 9 درہم لے کر خائن بن جاتا جن میں اس نے خیانت نہیں کی تھی۔