❮
❯
حدیث نمبر: 21302
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ كَانَ وَلِيَّهُمْ، فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ، فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ أَمْوَالَهُمْ مِثْلَهَا، قَالَ: قُلْتُ: اقْبِضِ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ⦗٤٥٧⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَدِّ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ ".
حافظ ثناء اللہ

یوسف بن ماہک مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں فلاں شخص کے لیے یتیموں کا خرچہ لکھا کرتا تھا جن کا وہ والی تھا۔ انہوں نے (حساب میں) اس سے ایک ہزار درہم کا دھوکہ کیا تو اس نے وہ رقم انہیں ادا کر دی، پھر مجھے ان کے مال میں سے اتنی ہی رقم مل گئی۔ میں نے کہا: ”جو ہزار درہم وہ تم سے لے گئے تھے وہ لے لو۔“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ کیونکہ میرے والد نے مجھے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ» ”اس کو ادا کرو جو آپ کو امین بنائے، اس سے خیانت نہ کرو جو آپ سے خیانت کرے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21302
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»