کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: گھر کے سامان کا بیان جس میں میاں بیوی کا اختلاف ہو جائے۔
حدیث نمبر: 21295
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يُقِمْ بَيِّنَةً فَالْقِيَاسُ الَّذِي لَا يُعْذَرُ أَحَدٌ عِنْدِي بِالْغَفْلَةِ عَنْهُ عَلَى الْإِجْمَاعِ أَنَّ هَذَا الْمَتَاعَ فِي أَيْدِيهِمَا مَعًا، فَيَحْلِفُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ عَلَى دَعْوَاهُ، فَإِنْ حَلَفَا جَمِيعًا فَهُوَ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس جو شخص اس (سامان) میں سے کسی چیز پر دلیل (گواہی) قائم کر دے تو وہ اسی کی ہے، اور جو دلیل قائم نہ کرے تو وہ قیاس، جس سے غفلت برتنے میں میرے نزدیک کوئی بھی معذور نہیں، اجماع کی بنیاد پر یہ ہے کہ یہ سامان ان دونوں کے مشترکہ قبضے میں ہے، لہٰذا ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے مقابلے میں اس کے دعوے پر قسم کھائے گا، پھر اگر دونوں قسم کھا لیں تو وہ (سامان) ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہو گا...“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21295
حدیث نمبر: 21295
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّاجِرُ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرِّيِّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ حَمْزَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَالِكِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ قَالَا: ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى. وَهَهُنَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُدَّعٍ عَلَيْهِ مَا فِي يَدِهِ، فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ فِي نَفْيِ مَا يَدَّعِي صَاحِبُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلِأَنَّ الرَّجُلَ قَدْ يَمْلِكُ مَتَاعَ النِّسَاءِ، وَالْمَرْأَةَ قَدْ تَمْلِكُ مَتَاعَ الرَّجُلِ بِالشِّرَاءِ وَالْمِيرَاثِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَقَدِ اسْتَحَلَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِبُدْنٍ مِنْ حَدِيدٍ، وَهَذَا مَتَاعُ الرَّجُلِ، وَقَدْ كَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي تِلْكَ الْحَالِ مَالِكَةً لِلْبُدْنِ دُونَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى هَذَا فِي رِوَايَةِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهَا شَيْئًا "، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: " أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟ "..
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مدعی علیہ پر قسم ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مرد عورت کے سامان کا مالک ہے اور عورت خریدنے اور وراثت کی وجہ سے آدمی کے مال کی مالک ہوگئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بدن کو لوہے کی انگوٹھی کی وجہ سے اپنے لیے حلال اور جائز قرار دیا۔ یہ مرد کا سامان ہے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے بدن کی مالکہ تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ۔
شیخ فرماتے ہیں: عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ کو کچھ دو۔“ کہنے لگے: میرے پاس کچھ نہیں، فرمایا: ”آپ کی حطمی زرہ کہاں ہے؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21295
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 21296
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ⦗٤٥٥⦘ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا رَقَبَةُ، قَالَ: قَالَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ مِنْ عِنْدِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: لَقَدْ قَضَى الْأَمِيرُ بِقَضِيَّةٍ، فَقَالَ لَهُ الشَّعْبِيُّ: وَمَا هِيَ؟ فَقَالَ: قَالَ: " مَا كَانَ لِلرَّجُلِ فَهُوَ لِلرَّجُلِ، وَمَا كَانَ لِلنِّسَاءِ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ "، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: قَضَاءُ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَ: لَا أُخْبِرُكَ، قَالَ: مَنْ هُوَ عَلَى عَهْدِ اللهِ وَمِيثَاقِهِ أَنْ لَا أُخْبِرَهُ، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: صَدَقَ وَيْحَكَ، إِنَّا لَمْ نَنْقِمْ عَلَى عَلِيٍّ قَضَاءَهُ، قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ عَلِيًّا كَانَ أَقْضَاهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
رقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یزید بن ابی اسلم رحمہ اللہ حجاج کے پاس سے آئے۔ کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین نے ایک فیصلہ فرمایا، امام شعبی رحمہ اللہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ جو مرد کا سامان ہے، اسی کا ہے؛ جو عورت کا ہے اسی کا ہے، اس نے امام شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ اس آدمی کا فیصلہ جو اہل بدر میں سے تھے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کون تھے؟ کہنے لگے: میں خبر نہ دوں گا۔
پھر فرماتے ہیں کہ یہ کوئی اللہ کا عہد و میثاق نہیں کہ میں خبر نہ دوں، فرمایا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر وہ حجاج کے پاس گئے، اس کو خبر دی تو حجاج کہنے لگا: اس نے سچ بولا، ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے فیصلے کا انتقام نہ لیں گے، ہم جانتے ہیں کہ ان کا فیصلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21296
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»