کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: گھر کے سامان کا بیان جس میں میاں بیوی کا اختلاف ہو جائے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يُقِمْ بَيِّنَةً فَالْقِيَاسُ الَّذِي لَا يُعْذَرُ أَحَدٌ عِنْدِي بِالْغَفْلَةِ عَنْهُ عَلَى الْإِجْمَاعِ أَنَّ هَذَا الْمَتَاعَ فِي أَيْدِيهِمَا مَعًا، فَيَحْلِفُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ عَلَى دَعْوَاهُ، فَإِنْ حَلَفَا جَمِيعًا فَهُوَ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس جو شخص اس (سامان) میں سے کسی چیز پر دلیل (گواہی) قائم کر دے تو وہ اسی کی ہے، اور جو دلیل قائم نہ کرے تو وہ قیاس، جس سے غفلت برتنے میں میرے نزدیک کوئی بھی معذور نہیں، اجماع کی بنیاد پر یہ ہے کہ یہ سامان ان دونوں کے مشترکہ قبضے میں ہے، لہٰذا ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے مقابلے میں اس کے دعوے پر قسم کھائے گا، پھر اگر دونوں قسم کھا لیں تو وہ (سامان) ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہو گا...“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّاجِرُ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرِّيِّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ حَمْزَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَالِكِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ قَالَا: ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى. وَهَهُنَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُدَّعٍ عَلَيْهِ مَا فِي يَدِهِ، فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ فِي نَفْيِ مَا يَدَّعِي صَاحِبُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلِأَنَّ الرَّجُلَ قَدْ يَمْلِكُ مَتَاعَ النِّسَاءِ، وَالْمَرْأَةَ قَدْ تَمْلِكُ مَتَاعَ الرَّجُلِ بِالشِّرَاءِ وَالْمِيرَاثِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَقَدِ اسْتَحَلَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِبُدْنٍ مِنْ حَدِيدٍ، وَهَذَا مَتَاعُ الرَّجُلِ، وَقَدْ كَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي تِلْكَ الْحَالِ مَالِكَةً لِلْبُدْنِ دُونَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى هَذَا فِي رِوَايَةِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهَا شَيْئًا "، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: " أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟ "..
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مدعی علیہ پر قسم ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: (یہ اس لیے بھی ہے کہ) مرد کبھی عورتوں کے سامان کا مالک ہوتا ہے اور عورت کبھی خریدنے، وراثت وغیرہ کی وجہ سے مرد کے سامان کی مالک ہو جاتی ہے، اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو لوہے کی ایک زرہ (کے مہر) کے عوض اپنے لیے حلال کیا، اور یہ مرد کا سامان ہے، اور اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس زرہ کی مالکہ تھیں، نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ۔
شیخ فرماتے ہیں: عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ کو کچھ دو۔“ کہنے لگے: میرے پاس کچھ نہیں، فرمایا: ”آپ کی حطمی زرہ کہاں ہے؟“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: (یہ اس لیے بھی ہے کہ) مرد کبھی عورتوں کے سامان کا مالک ہوتا ہے اور عورت کبھی خریدنے، وراثت وغیرہ کی وجہ سے مرد کے سامان کی مالک ہو جاتی ہے، اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو لوہے کی ایک زرہ (کے مہر) کے عوض اپنے لیے حلال کیا، اور یہ مرد کا سامان ہے، اور اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس زرہ کی مالکہ تھیں، نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ۔
شیخ فرماتے ہیں: عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ کو کچھ دو۔“ کہنے لگے: میرے پاس کچھ نہیں، فرمایا: ”آپ کی حطمی زرہ کہاں ہے؟“
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ⦗٤٥٥⦘ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا رَقَبَةُ، قَالَ: قَالَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ مِنْ عِنْدِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: لَقَدْ قَضَى الْأَمِيرُ بِقَضِيَّةٍ، فَقَالَ لَهُ الشَّعْبِيُّ: وَمَا هِيَ؟ فَقَالَ: قَالَ: " مَا كَانَ لِلرَّجُلِ فَهُوَ لِلرَّجُلِ، وَمَا كَانَ لِلنِّسَاءِ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ "، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: قَضَاءُ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَ: لَا أُخْبِرُكَ، قَالَ: مَنْ هُوَ عَلَى عَهْدِ اللهِ وَمِيثَاقِهِ أَنْ لَا أُخْبِرَهُ، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: صَدَقَ وَيْحَكَ، إِنَّا لَمْ نَنْقِمْ عَلَى عَلِيٍّ قَضَاءَهُ، قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ عَلِيًّا كَانَ أَقْضَاهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
رقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یزید بن ابی مسلم حجاج کے پاس سے نکلے اور کہنے لگے کہ امیر نے ایک فیصلہ کیا ہے، امام شعبی رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: امیر نے کہا: جو مرد کا سامان ہے وہ مرد کا ہے اور جو عورتوں کا ہے وہ عورت کا ہے۔ امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ اہل بدر میں سے ایک آدمی کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ فرمایا: میں تمہیں نہیں بتاؤں گا۔
انہوں نے کہا: وہ کون ہیں؟ مجھ پر اللہ کا عہد و میثاق ہے کہ میں انہیں (حجاج کو) نہیں بتاؤں گا۔ فرمایا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر وہ حجاج کے پاس گئے اور اسے بتا دیا تو حجاج کہنے لگا: تیرا برا ہو، اس نے سچ کہا، ہم نے علی رضی اللہ عنہ پر ان کے فیصلوں کی وجہ سے کوئی عیب نہیں لگایا، ہم جانتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ان سب میں سب سے بڑے قاضی تھے۔
انہوں نے کہا: وہ کون ہیں؟ مجھ پر اللہ کا عہد و میثاق ہے کہ میں انہیں (حجاج کو) نہیں بتاؤں گا۔ فرمایا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر وہ حجاج کے پاس گئے اور اسے بتا دیا تو حجاج کہنے لگا: تیرا برا ہو، اس نے سچ کہا، ہم نے علی رضی اللہ عنہ پر ان کے فیصلوں کی وجہ سے کوئی عیب نہیں لگایا، ہم جانتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ان سب میں سب سے بڑے قاضی تھے۔