کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جان کو آزاد کرنے اور گردن کو (غلامی سے) چھڑانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 21306
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ ابْنُ مَرْجَانَةَ، صَاحِبُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا اسْتَنْقَذَهُ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ ". قَالَ سَعِيدُ ابْنُ مَرْجَانَةَ: سَمِعْتُ الْحَدِيثَ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، فَعَمِدَ إِلَى عَبْدٍ قَدْ أَعْطَاهُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، أَوْ أَلْفَ دِينَارٍ، فَأَعْتَقَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرواتا ہے تو اس کے عوض اللہ اس کے تمام اعضا کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دیتے ہیں۔“
(ب) سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں علی بن حسین رحمہ اللہ کی طرف چلا، انہوں نے ایک غلام کا قصہ بیان کیا جس کی آزادی کے لیے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے دس ہزار درہم دیے یا ایک ہزار دینار اور اس کو آزاد کر دیا گیا۔
(ب) سعید بن مرجانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں علی بن حسین رحمہ اللہ کی طرف چلا، انہوں نے ایک غلام کا قصہ بیان کیا جس کی آزادی کے لیے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے دس ہزار درہم دیے یا ایک ہزار دینار اور اس کو آزاد کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 21307
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ، سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ حَتَّى يُعْتِقَ فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مومن گردن کو آزاد کر دیا تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام اعضا اس کے بدلے میں جہنم سے آزاد کر دیں گے، یہاں تک کہ شرمگاہ کو شرمگاہ کے عوض۔“
حدیث نمبر: 21308
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَا:: ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ ابْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ مِنَ النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس نے گردن آزاد کی تو اللہ اس کے تمام اعضاء کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے، یہاں تک کہ شرمگاہ کو شرمگاہ کے عوض۔“
حدیث نمبر: 21309
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٤٦٠⦘ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ: قِيلَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ، أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ الْبَهْزِيِّ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلَّهِ أَبُوكَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْ عِظَامِهِمَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً كَانَتْ فِكَاكَهَا مِنَ النَّارِ، تُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک حدیث بیان فرمائی کہ اللہ کے لیے خوبی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان نے کسی مسلمان کی گردن آزاد کروائی، اللہ اس کو جہنم سے آزاد کروا دیں گے، ہڈی ہڈی سے کفایت کر جائے گی، جس مسلمان نے دو عورتیں آزاد کیں، تو ان کا آزاد کرانا گویا جہنم سے بچاؤ ہے، ہر ہڈی دوسری کی ہڈی سے آزاد ہو جائے گی، جو عورت مسلمان عورت کو آزاد کروا دے تو اس کو جہنم سے آزادی مل جائے گی تو اس کی ہڈی اس کی ہڈی سے کفایت کر جائے گی۔“
حدیث نمبر: 21310
أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَسَدَ بْنَ وَدَاعَةَ الطَّائِيَّ، يَقُولُ: قَالَ شُرَحْبِيلُ بْنُ السِّمْطِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى حِمْصَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا نَجِيحٍ حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ فِيهِ تَزَيُّدٌ وَلَا نِسْيَانٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلَّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَبَلَغَ الْعَدُوَّ وَأَصَابَ كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
شرحبیل بن سبط رضی اللہ عنہ جو حمص کے امیر تھے، عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جو نبی ﷺ کے صحابی ہیں: اے ابونجیح! ہمیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث سناؤ، جس میں زیادتی اور نسیان نہ ہو۔ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مومن گردن کو آزاد کیا تو اللہ اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔ جس نے دشمن کو تیر مارا تو یہ بھی گردن آزاد کروانے کے برابر ہے، جو اللہ کے راستہ میں بوڑھا ہو گیا، اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔“
حدیث نمبر: 21311
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْرَ الطَّائِفِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ لَهُ عَدْلُ مُحَرَّرٍ "، فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مَسْلَمَةً فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر طائف کے محلات کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر پھینکے، وہ گردن کے آزاد کرنے کے برابر ہیں“، میں نے اس دن چھ تیر پھینکے تھے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر مارا اس کے لیے جنت میں درجہ ہوگا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو آزاد کیا تو اللہ اس کے اعضاء کو اس کے اعضاء کے عوض جہنم سے بچا لے گا، جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کر دیا تو اللہ اس کے تمام اعضاء کو اس کے تمام اعضاء کے عوض آزاد کر دے گا“۔
حدیث نمبر: 21312
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ: شُعْبَةُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى وَمَعَهُ بَنُوهُ فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ ⦗٤٦١⦘ حَدَّثَنِي بِهِ أَبِي؟ قَالُوا: بَلَى يَا أَبَتِ، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَوْ عَبْدًا كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ عُضْوًا بِعُضْوٍ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ابوبردہ رحمہ اللہ کے پاس تھے، ان کے بچے بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں حدیث نہ سناؤں جو میرے والد نے مجھے سنائی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے والد! فرمایا کہ میرے والد نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے گردن یا غلام آزاد کیا تو اس کے عوض اس کے تمام اعضاء جہنم سے آزاد ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 21313
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: " لَئِنْ أَقْصَرْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَهُمَا سَوَاءٌ؟ قَالَ: " لَا، عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَنْفَرِدَ بِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ "، قَالَ: فَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: " فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ "، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: " مُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ "، قَالَ: فَمَنْ لَمْ يُطِقْ ذَلِكَ؟ قَالَ: " فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ تو نے خطبہ چھوٹا دیا ہے لیکن تو نے مسئلہ بہت بڑا (اور اہم) بیان کیا ہے؛ «عِتْقُ النَّسَمَةِ» ”جان آزاد کرو“ اور «فَكُّ الرَّقَبَةِ» ”گردن آزاد کرو“۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ دونوں برابر نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، «عِتْقُ النَّسَمَةِ» ”جان آزاد کرنے“ سے مراد یہ ہے کہ آپ اکیلے کسی گردن کو آزاد کریں اور «فَكُّ الرَّقَبَةِ» ”گردن آزاد کرانے“ سے مراد ہے اس کی قیمت میں مدد کرنا، اور دودھ والا جانور عطیہ میں دینا اور ظالم رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟“ (پھر) فرمایا: ”بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا۔“ وہ کہنے لگا: اگر میں اس کی طاقت نہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔“ اس نے کہا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے کہ بھلائی کے علاوہ اپنی زبان کو روکے رکھے۔