السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: أخذ الرجل حقه ممن يمنعه إياه. باب: آدمی کا اپنا حق اس شخص سے وصول کرنا جو اسے اس سے روکتا ہو۔
حدیث نمبر: 21305
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " لَيْسَ بِثَابِتٍ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْكُمْ، وَلَوْ كَانَ ثَابِتًا لَمْ يَكُنْ فِيهِ حُجَّةٌ عَلَيْنَا، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: إِذَا دَلَّتِ السُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ كَثِيرٍ مِنْ أَهْلِ ⦗٤٥٨⦘ الْعِلْمِ عَلَى أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ حَقَّهُ لِنَفْسِهِ سِرًّا مِنَ الَّذِي هُوَ عَلَيْهِ فَقَدْ دَلَّ أَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِخِيَانَةٍ، الْخِيَانَةُ أَخْذُ مَا لَا يَحِلُّ أَخْذُهُ، فَلَوْ خَانَنِي دِرْهَمًا فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحَلَّ خِيَانَتِي، لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ آخُذَ مِنْهُ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ مُكَافَأَةً بِخِيَانَتِهِ لِي، وَكَانَ لِي أَنْ آخُذَ دِرْهَمًا، وَلَا أَكُونَ بِهَذَا خَائِنًا ظَالِمًا كَمَا كُنْتُ خَائِنًا ظَالِمًا بِأَخْذِ تِسْعَةٍ مَعَ دِرْهَمِي، لِأَنَّهُ لَمْ يَخُنْهَا ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث تمہارے محدثین کے ہاں ثابت نہیں ہے۔ اگر ثابت ہو بھی تو بھی یہ ہمارے خلاف دلیل نہیں بن سکتی۔ پھر دورانِ گفتگو فرمایا: سنت اور اکثر اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ آدمی اپنا حق اپنے مخالف سے چھپا کر لے سکتا ہے، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کرنا خیانت نہیں ہے۔ اگر میں کہوں کہ اس نے مجھ سے ایک درہم میں خیانت کی ہے، پھر میرے لیے اس کے بدلے میں دس دراہم تک خیانت کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ میں ایک درہم لے سکتا ہوں اور اس میں میں خائن نہیں ہوں گا، جیسا کہ میں 9 درہم لے کر خائن بن جاتا جن میں اس نے خیانت نہیں کی تھی۔