کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: شعراء کو عطیات دینے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ شَاعِرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ، اقْطَعْ عَنِّي لِسَانَهُ "، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا وَحُلَّةً، قَالَ: قُطِعَتْ وَاللهِ لِسَانِي، قُطِعَتْ وَاللهِ لِسَانِي. هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُمَرَ، وَمَوْصُولًا بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شاعر نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میری جانب سے اس کی زبان کو خاموش کرواؤ۔“ تو انہوں نے اسے 40 درہم اور ایک حلہ دیا۔ وہ (شاعر) کہنے لگا: اللہ کی قسم! میری زبان بند کر دی گئی، اللہ کی قسم! میری زبان بند کر دی گئی۔
یہ روایت منقطع ہے، اور یہ محمد بن مسلم کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ موصولاً بھی، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21130
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ نُجَيْدِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَعْطَى شَاعِرًا، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، أَتُعْطِي شَاعِرًا؟ قَالَ: " إِنِّي أَفْتَدِي عِرْضِي مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
نجیر بن عمران بن حصین رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے شاعر کو عطیہ دیا تو ان سے کہا گیا: اے ابونجیر! کیا آپ شاعروں کو عطیات دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں تو اپنی عزت کا فدیہ دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21131
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا ابْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا وَقَى بِهِ الرَّجُلُ عِرْضَهُ كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا أَنْفَقَ مِنْ نَفَقَةٍ فَعَلَى اللهِ خَلَفُهَا، إِلَّا مَا كَانَ فِي بُنْيَانٍ أَوْ مَعْصِيَةٍ " قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: مَا يَقِي بِهِ عِرْضَهُ؟ قَالَ: يُعْطِي الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نیکی صدقہ ہے، جو انسان اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے، اس کا صدقہ لکھا جاتا ہے اور جس کے عوض وہ اپنی عزت کو محفوظ کرتا ہے، وہ بھی صدقہ ہے اور جو بھی وہ خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کا بہتر بدل عطا کر دیتے ہیں، سوائے اس کے جو عمارتوں اور نافرمانی کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ محمد بن منکدر رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: عزت کا بچانا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”شاعروں اور چرب لسان لوگوں کو ادا کرنا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21132
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ مَرْفُوعًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ: فَقُلْنَا لِجَابِرٍ: مَا أَرَادَ: " مَا وَقَى بِهِ الْمَرْءُ عِرْضَهُ "؟ قَالَ: يَعْنِي الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ الْمُتَّقَى، كَأَنَّهُ يَقُولُ: الَّذِي يُتَّقَى لِسَانُهُ وَرَوَاهُ غَيْرُ مِسْوَرٍ نَحْوَ حَدِيثِ الْهِلَالِيِّ، وَهَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِهِمَا، وَلَيْسَا بِالْقَوِيَّيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن منکدر رحمہ اللہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مرفوعاً نقل فرماتے ہیں۔ محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: آدمی کا اپنی عزت کو محفوظ کرنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: شاعر اور چرب لسان لوگوں کو دینا۔ گویا کہ فرمانے لگے کہ ان کی زبان کو بند کیا جائے۔
یہ حدیث انہی دونوں (ہلالی اور مسور) کے ذریعے معروف ہے اور یہ دونوں قوی نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21133
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»