کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وہ شاعر جو غصے اور محرومی کی بنا پر لوگوں کی کثرت سے برائی (ہجو) کرے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " رُدَّتْ شَهَادَتُهُ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی وجہ سے اس کی گواہی رد کر دی جائے گی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِيُ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پہلوان وہ نہیں جو (کسی کو) جلدی گرا دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑا سود یہ ہے کہ مسلمان بھائی کی ناحق بے عزتی کی جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، يَرْوِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَرْبَى الرِّبَا شَتْمُ الْأَعْرَاضِ، وَأَشَدَّ الشَّتْمِ الْهِجَاءُ، وَالرَّاوِيَةُ أَحَدُ الشَّاتِمَيْنِ ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَهُوَ يُؤَكِّدُ مَا قَبْلَهُ، وَرَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ أَنَسٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْصُولًا بِاللَّفْظِ الْأَوَّلِ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑا سود بے عزتی کی غرض سے گالیاں دینا ہے، اور سخت ترین گالی کسی کی مذمت (ہجو) بیان کرنا ہے، اور اسے نقل کرنے والا بھی دو گالی دینے والوں میں سے ایک ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور پچھلی روایت کی تائید کرتی ہے۔ عمران بن انس مکی نے اسے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی ﷺ سے پہلے الفاظ کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
یہ روایت مرسل ہے اور پچھلی روایت کی تائید کرتی ہے۔ عمران بن انس مکی نے اسے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی ﷺ سے پہلے الفاظ کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، أنبأ شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ⦗٤٠٩⦘ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمِ النَّاسِ فِرْيَةً لَرَجُلٌ هَجَا رَجُلًا، فَهَجَا الْقَبِيلَةَ بِأَسْرِهَا، وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ وَزَنَّى أُمَّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے جھوٹا انسان وہ ہے جو کسی آدمی کی مذمت بیان کرتا ہے اور (اس کی وجہ سے) اس کے پورے قبیلے کی مذمت کر ڈالتا ہے اور وہ آدمی جو اپنے باپ کا انکار کرتا ہے اور اپنی والدہ پر زنا کی تہمت لگاتا ہے۔“