کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وہ شاعر جو لوگوں کی ان خوبیوں سے تعریف کرے جو ان میں موجود نہیں یہاں تک کہ یہ کثرت سے ظاہر ہونے والا اور محض جھوٹ بن جائے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " رُدَّتْ شَهَادَتُهُ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی وجہ سے اس کی گواہی رد کر دی جائے گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " يَقُولُهُ مِرَارًا، إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَذَاكَ، وَحَسِيبُهُ اللهُ، وَلَا يُزَكِّ أَحَدٌ عَلَى اللهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا تذکرہ نبی ﷺ کے پاس ہوا تو ایک آدمی نے اس کی اچھی تعریف کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی۔“ آپ ﷺ بار بار فرما رہے تھے: ”اگر ضروری تعریف کرنی ہے تو یہ کہہ دے: فلاں کے بارے میں میرا یہ خیال ہے۔ اگر وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے گمان کیا ہے تو اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے، وہ کسی کا اللہ کے ہاں تزکیہ نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَبِيُ يَحْيَى الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " وَيْلَكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ "، مِرَارًا، " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا، وَاللهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا، أَحْسِبُهُ، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَاكَ كَذَا وَكَذَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس کسی کی مدح کی، آپ ﷺ نے کئی بار فرمایا: ”تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ ڈالی، جب لازماً تعریف کرنا ہی ہو تو وہ کہے: میں اس کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہوں اور اللہ اس کا محاسبہ کرنے والا ہے اور میں کسی کا تزکیہ اللہ کے سامنے نہیں کرتا، میں اسے ایسا ایسا گمان کرتا ہوں، اگر وہ اس کے بارے میں یہ بات جانتا ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ السَّكَنِيُّ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ، فَقَالَ: " لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ "، أَوْ " قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو سنا جو دوسرے آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے (اسے) ہلاک کر دیا“ یا (فرمایا:) ”تم نے اس آدمی کی کمر توڑ دی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَأَثْنَى عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ، فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ، وَقَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثُوَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ، ابو معمر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے امراء میں سے کسی کی تعریف شروع کر دی تو مقداد رضی اللہ عنہ اس کے چہرے پر مٹی پھینکنے لگے اور فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ: ”ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈالیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ ح قَالَ: وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ، قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صَدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ وَعُثْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت میں لے جانے والی ہے اور آدمی ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک سچوں میں لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ برائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم میں لے جانے والی ہے اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے ہاں جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“