السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في إعطاء الشعراء باب: شعراء کو عطیات دینے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21132
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا ابْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا وَقَى بِهِ الرَّجُلُ عِرْضَهُ كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا أَنْفَقَ مِنْ نَفَقَةٍ فَعَلَى اللهِ خَلَفُهَا، إِلَّا مَا كَانَ فِي بُنْيَانٍ أَوْ مَعْصِيَةٍ " قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: مَا يَقِي بِهِ عِرْضَهُ؟ قَالَ: يُعْطِي الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نیکی صدقہ ہے، جو انسان اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے، اس کا صدقہ لکھا جاتا ہے اور جس کے عوض وہ اپنی عزت کو محفوظ کرتا ہے، وہ بھی صدقہ ہے اور جو بھی وہ خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کا بہتر بدل عطا کر دیتے ہیں، سوائے اس کے جو عمارتوں اور نافرمانی کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ محمد بن منکدر رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: عزت کا بچانا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”شاعروں اور چرب لسان لوگوں کو ادا کرنا۔“