السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في إعطاء الشعراء باب: شعراء کو عطیات دینے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21130
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ شَاعِرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ، اقْطَعْ عَنِّي لِسَانَهُ "، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا وَحُلَّةً، قَالَ: قُطِعَتْ وَاللهِ لِسَانِي، قُطِعَتْ وَاللهِ لِسَانِي. هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُمَرَ، وَمَوْصُولًا بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شاعر نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میری جانب سے اس کی زبان کو خاموش کرواؤ۔“ تو انہوں نے اسے 40 درہم اور ایک حلہ دیا۔ وہ (شاعر) کہنے لگا: اللہ کی قسم! میری زبان بند کر دی گئی، اللہ کی قسم! میری زبان بند کر دی گئی۔
یہ روایت منقطع ہے، اور یہ محمد بن مسلم کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ موصولاً بھی، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔