قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِذَا كَانُوا هَكَذَا - يَعْنِي: أَهْلَ الْأَهْوَاءِ، فَاللَّاعِبُ بِالشِّطْرَنْجِ وَإِنْ كَرِهْنَا لَهُ، وَبِالْحَمَامِ، وَإِنْ كَرِهْنَا لَهُ، أَخَفُّ حَالًا مِنْ هَؤُلَاءِ بِمَا لَا يُحْصَى وَلَا يُقَدَّرُ. وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِمَا فِيهِ أَيْضًا مِنَ اخْتِلَافِ الْعُلَمَاءِ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور جب وہ، یعنی اہل اہواء (بدعتی)، اس طرح (مقبول الشہادۃ) ہیں، تو شطرنج کھیلنے والا، اگرچہ ہم اسے اس کے لیے ناپسند کرتے ہیں، اور کبوتر بازی کرنے والا، اگرچہ ہم اسے اس کے لیے ناپسند کرتے ہیں، ان لوگوں کے مقابلے میں اتنا زیادہ ہلکے حال والا ہے جس کا نہ شمار کیا جا سکتا ہے اور نہ اندازہ۔“
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ اس (شطرنج کے مسئلے) میں بھی علماء کا اختلاف ہے...
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ اس (شطرنج کے مسئلے) میں بھی علماء کا اختلاف ہے...
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: لَعِبَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِالشِّطْرَنْجِ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، فَيَقُولُ: " بِأَيْشْ دَفَعَ كَذَا؟ قَالَ: بِكَذَا، قَالَ: ادْفَعْ بِكَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سلمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ اپنی پیٹھ کے پیچھے (بساط کو دیکھے بغیر) شطرنج کھیل لیتے تھے اور کہتے: ”اس نے فلاں مہرہ کس سے چلا؟“ وہ کہتا: ”فلاں سے۔“ فرماتے: ”تم فلاں سے چلو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، إِجَازَةً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: " كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ يَلْعَبَانِ بِالشِّطْرَنْجِ اسْتِدْبَارًا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین اور ہشام بن عروہ دونوں (بساط کی طرف) پیٹھ کر کے شطرنج کھیل لیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ: بَلَغَنِي أَنَّ الشَّعْبِيَّ: كَانَ يَلْعَبُ بِالشِّطْرَنْجِ، وَيَلْبَسُ مِلْحَفَةً، وَيُرْخِي شَعْرَهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ مُتَوَارِيًا مِنَ الْحَجَّاجِ ".
حافظ ثناء اللہ
معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ شعبی رحمہ اللہ شطرنج کھیلتے، عورتوں کی چادر اوڑھ لیتے اور اپنے بالوں کو لٹکا لیتے تھے، اور یہ اس لیے تھا کہ وہ حجاج سے چھپے ہوئے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ فَإِذَا رَجُلٌ قَدْ قُرِّبَتْ إِلَيْهِ دَابَّةٌ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ: مَا كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ فِي الشِّطْرَنْجِ؟ فَقَالَ: " كَانَ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّرْدَشِيرَ "، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: ابْنُ عَوْنٍ، وَكَانَ مُضَبِّبَ الْأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
معقل بن مالک باہلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں جامع مسجد سے نکلا، اچانک ایک آدمی کے سامنے سواری لائی گئی۔ اس سے کسی آدمی نے سوال کیا: کیا حسن رحمہ اللہ شطرنج کھیلا کرتے تھے؟ وہ کہنے لگا: وہ اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے، لیکن «نَرْدَشِير» ”نرد شیر“ کو ناپسند کرتے تھے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابن عون رحمہ اللہ۔ وہ سونے کے دانت لگاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَطَّارُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّلَّامَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: " أَتَيْتُ الْبَصْرَةَ فِي طَلَبِ الْحَدِيثِ، فَأَتَيْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ فَوَجَدْتُهُ مَعَ قَوْمٍ يَلْعَبُ بِالشِّطْرَنْجِ ".
حافظ ثناء اللہ
احمد بن بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حدیث کی طلب میں بصرہ آیا، میں بہز بن حکیم رحمہ اللہ کے پاس آیا تو میں نے انہیں ایک قوم کے ساتھ شطرنج کھیلتے ہوئے پایا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الرَّمَادِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ: " رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيَّ وَكَانَ يَلْعَبُ بِالشِّطْرَنْجِ ". فَجَعَلَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ اللَّعِبَ بِالشِّطْرَنْجِ مِنَ الْمَسَائِلِ الْمُخْتَلَفِ فِيهَا، فِي أَنَّهُ لَا يُوجِبُ رَدَّ الشَّهَادَةِ، فَأَمَّا كَرَاهِيَةُ اللَّعِبِ بِهَا فَقَدْ صَرَّحَ بِهَا فِيمَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَهُوَ الْأَشْبَهُ وَالْأُولَى بِمَذْهَبِهِ، فَالَّذِينَ كَرِهُوا أَكْثَرُ، وَمَعَهُمْ مَنْ يُحْتَجُّ بِقَوْلِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم ہجری کو دیکھا، وہ شطرنج کھیلا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے شطرنج کھیلنے کو اختلافی مسائل میں سے شمار کیا ہے، اس معنی میں کہ یہ گواہی کے رد ہونے کو واجب نہیں کرتا، رہی اس کے کھیلنے کی کراہت تو اس کی انہوں نے صراحت کی ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور یہی ان کے مذہب کے زیادہ مشابہ اور اولیٰ ہے، ناپسند کرنے والے زیادہ ہیں اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جن کے قول سے دلیل لی جاتی ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے شطرنج کھیلنے کو اختلافی مسائل میں سے شمار کیا ہے، اس معنی میں کہ یہ گواہی کے رد ہونے کو واجب نہیں کرتا، رہی اس کے کھیلنے کی کراہت تو اس کی انہوں نے صراحت کی ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور یہی ان کے مذہب کے زیادہ مشابہ اور اولیٰ ہے، ناپسند کرنے والے زیادہ ہیں اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جن کے قول سے دلیل لی جاتی ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " الشِّطْرَنْجُ هُوَ مَيْسِرُ الْأَعَاجِمِ ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَلَكِنَّ لَهُ شَوَاهِدَ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ شطرنج عجمیوں کا جوا ہے۔
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔
یہ روایت مرسل ہے لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَ: مَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ فَقَالَ: " {مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ} [الأنبياء: ٥٢]؟ ".
حافظ ثناء اللہ
میسرہ بن حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک قوم سے گزر ہوا، وہ شطرنج کھیل رہے تھے، آپ نے فرمایا: ﴿مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 52] ”یہ کیسی صورتیں ہیں جن پر تم ٹھہرے ہوئے ہو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، ثنا الْحُسَيْنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ يَلْعَبُونَ الشِّطْرَنْجَ فَقَالَ: " {مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ} [الأنبياء: ٥٢]؟ لَأَنْ يَمَسَّ جَمْرًا حَتَّى يُطْفَأَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
اصبغ بن نباتہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک قوم کے پاس سے گزر ہوا، وہ شطرنج کھیل رہے تھے۔ فرمانے لگے: ﴿مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 52] یہ کیسی صورتیں ہیں جن کے اوپر تم ٹھہرے ہوتے ہو۔
وہ کوئلے کو پکڑ لیں اور ان کے ہاتھ میں بجھ جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شطرنج کو ہاتھ لگائیں۔
وہ کوئلے کو پکڑ لیں اور ان کے ہاتھ میں بجھ جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شطرنج کو ہاتھ لگائیں۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " صَاحِبُ الشِّطْرَنْجِ أَكْذَبُ النَّاسِ، يَقُولُ أَحَدُهُمْ: قَتَلْتُ، وَمَا قَتَلَ ".
حافظ ثناء اللہ
حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شطرنج کھیلنے والا سب سے بڑا جھوٹا انسان ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے قتل کیا، حالانکہ اس نے قتل نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ الْحُسَيْنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ أَبُو إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ تَيْمِ اللهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ لِغَيْرِ هَذَا خُلِقْتُمْ، أَمَا وَاللهِ لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً لَضَرَبْتُ بِهَا وُجُوهَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عمار بن ابی عمار فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تیم اللہ کی مجلس کے پاس سے گزرے، وہ شطرنج کھیل رہے تھے، آپ ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم اس کے علاوہ کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ اللہ کی قسم! اگر یہ (میرا عمل) سنت نہ بن جاتا تو میں اسے تمہارے چہروں پر مارتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ الْحُسَيْنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْبُهْلُولِ، ⦗٣٥٩⦘ قَالَ: سَمِعْتُ مَعْنَ بْنَ عِيسَى يَقُولُ: قَالَ مَالِكٌ: الشِّطْرَنْجُ مِنَ النَّرْدِ، بَلَغَنَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ وَلِيَ مَالَ يَتِيمٍ، فَأَحْرَقَهَا.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شطرنج بھی نرد کا ایک حصہ ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جب یتیم کے مال کے والی بنے تو اس کو جلا دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُنِيرٍ الْقَطَّانُ الْمَدَائِنِيُّ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، قَالَ: ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: " هُوَ شَرٌّ مِنَ النَّرْدِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے شطرنج کے بارے میں سوال ہوا تو وہ کہنے لگے: وہ نرد سے بھی بدتر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: " لَا يَلْعَبُ بِالشِّطْرَنْجِ إِلَّا خَاطِئٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شطرنج صرف گناہگار آدمی کھیلتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكْرَهُ الْكَبْلَ وَإِنْ لَمْ يُقَامَرْ عَلَيْهَا، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَكْرَهُ أَنْ يُلْعَبَ بِالشِّطْرَنْجِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی جعفر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کبل کو ناپسند کرتی تھیں، اگرچہ اس پر جوا نہ بھی ہو اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ شطرنج کو ناپسند کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: " هِيَ بَاطِلٌ، وَلَا يُحِبُّ اللهُ الْبَاطِلَ ".
حافظ ثناء اللہ
صالح بن ابی یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسیب رحمہ اللہ سے شطرنج کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: یہ باطل ہے اور اللہ باطل کو ناپسند کرتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ لَعِبِ الشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: " هِيَ مِنَ الْبَاطِلِ، وَلَا أُحِبُّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عقیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے شطرنج کھیلنے کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: یہ باطل ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الشِّطْرَنْجِ، فَقَالَ: " هِيَ مِنَ الْبَاطِلِ، وَلَا يُحِبُّ اللهُ الْبَاطِلَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن اسحاق رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے شطرنج کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: یہ باطل ہے اور اللہ تعالیٰ باطل کو ناپسند کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو جَعْفَرٍ عَنِ الشِّطْرَنْجِ فَقَالَ: " دَعُونَا مِنْ هَذِهِ الْمَجُوسِيَّةِ ". وَرُوِّينَا فِي كَرَاهِيَةِ اللَّعِبِ بِهَا، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو جعفر رحمہ اللہ سے شطرنج کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے کہا: ”ہم نے اس مجوسیہ کو چھوڑ رکھا ہے۔“