کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی جائز قرار پائے گی۔
حدیث نمبر: 20916
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " كُلُّ مَنْ تَأَوَّلَ فَأَتَى شَيْئًا مُسْتَحِلًّا كَانَ فِيهِ حَدٌّ أَوْ لَمْ يَكُنْ لَمْ تُرَدَّ شَهَادَتُهُ بِذَلِكَ، أَلَا تَرَى أَنَّ مِمَّنْ حُمِلَ عَنْهُ الدِّينُ، وَنُصِبَ عَلَمًا فِي الْبُلْدَانِ مَنْ قَدِ اسْتَحَلَّ الْمُتْعَةَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَحِلُّ الدِّينَارَ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، يَدًا بِيَدٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَدْ تَأَوَّلَ فَاسْتَحَلَّ سَفْكَ الدِّمَاءِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأَوَّلَ فَشَرِبَ كُلَّ مُسْكِرٍ غَيْرَ الْخَمْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَحَلَّ إِتْيَانَ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَحَلَّ بُيُوعًا مُحَرَّمَةً عِنْدَ غَيْرِهِ، فَإِذَا كَانَ هَؤُلَاءِ - مَعَ مَا وَصَفْتُ - أَهْلَ ثِقَةٍ فِي دِينِهِمْ، وَقَنَاعَةٍ عِنْدَ مَنْ عَرَفَهُمْ، وَقَدْ تُرِكَ عَلَيْهِ مَا تَأَوَّلُوا فَأَخْطَئُوا فِيهِ، وَلَمْ يَخْرُجُوا بِعَظِيمِ الْخَطَأِ إِذَا كَانَ مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِحْلَالِ كَانَ جَمِيعُ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ فِي هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر وہ شخص جس نے (کسی دلیل کی) تاویل کی اور پھر اسے حلال سمجھتے ہوئے کسی کام کا ارتکاب کیا، خواہ اس میں حد ہو یا نہ ہو، تو اس کی وجہ سے اس کی گواہی رد نہیں کی جائے گی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں سے دین (کا علم) حاصل کیا گیا اور جنہیں شہروں میں (علم کا) نشان بنایا گیا، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے متعہ کو حلال سمجھا، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ایک دینار کو دس دیناروں کے بدلے دست بدست (بیچنا) حلال سمجھتے ہیں، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے تاویل کر کے خون بہانے کو حلال سمجھا، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے تاویل کر کے شراب (خمر) کے علاوہ ہر نشہ آور چیز پی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے عورتوں کی پچھلی شرمگاہ میں آنے کو حلال قرار دیا، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ایسی بیوع کو حلال قرار دیا جو دوسروں کے نزدیک حرام ہیں۔ تو جب یہ لوگ، باوجود اس کے جو میں نے بیان کیا، اپنے دین میں قابل اعتماد ہیں اور جو انہیں جانتے ہیں ان کے نزدیک پسندیدہ ہیں، اور ان کی ان تاویلات کو، جن میں انہوں نے غلطی کی، (قابل گرفت سمجھے بغیر) چھوڑ دیا گیا ہے، اور جب ان کی طرف سے یہ حلال سمجھنے کی بنیاد پر ہوا تو وہ اس بڑی غلطی کی وجہ سے (عدالت سے) خارج نہیں ہوئے، تو تمام اہل اہواء (بدعتی) بھی اسی درجے میں ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 20916
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي مَنِيعٍ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ يَزِيدُ بْنُ عُمَيْرَةَ صَاحِبُ مُعَاذٍ أَنَّ مُعَاذًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ كُلَّمَا جَلَسَ مَجْلِسَ ذِكْرٍ: " اللهُ حَكَمٌ عَدْلٌ "، وَقَالَ أَبُو الْيَمَانِ: " قِسْطٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ، هَلَكَ الْمُرْتَابُونَ "، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَوْمًا فِي مَجْلِسٍ جَلَسَهُ: " وَرَاءَكُمْ فِتَنٌ يَكْثُرُ فِيهَا الْمَالُ، وَيُفْتَحُ فِيهَا الْقُرْآنُ، حَتَّى يَأْخُذَهُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ وَالْحُرُّ وَالْعَبْدُ وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَبِيرُ وَالصَّغِيرُ، فَيُوشِكُ قَائِلٌ أَنْ يَقُولُ: فَمَا لِلنَّاسِ لَا يَتَّبِعُونِي وَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ؟ واللهِ مَا هُمْ بِمُتَّبِعِيَّ حَتَّى أَبْتَدِعَ لَهُمْ غَيْرَهُ، فَإِيَّاكُمْ وَمَا ابْتُدِعَ، فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلَالَةٌ، وَاحْذَرُوا زَيْغَةَ الْحَكِيمِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالِ عَلَى فَمِ الْحَكِيمِ، وَقَدْ يَقُولُ الْمُنَافِقُ كَلِمَةَ الْحَقِّ "، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: وَمَا يُدْرِينِي، يَرْحَمُكَ اللهُ، أَنَّ الْحَكِيمَ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ، وَأَنَّ الْمُنَافِقَ يَقُولُ كَلِمَةَ الْحَقِّ؟ قَالَ: " اجْتَنِبْ مِنْ كَلَامِ الْحَكِيمِ الْمُشْتَبِهَاتِ الَّتِي تَقُولُ مَا هَذِهِ؟ وَلَا يُنْئِيَنَّكَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَإِنَّهُ لَعَلَّهُ أَنْ يُرَاجِعَ وَيُلَقَّى الْحَقَّ إِذَا سَمِعَهُ، فَإِنَّ عَلَى الْحَقِّ نُورًا ". وَفِي رِوَايَةِ الْقَاضِي: " وَلَا يُثْنِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ " وَرَوَاهُ عُقَيْلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَلَا يُثْنِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ " فَأَخْبَرَ مُعَاذُ بْنُ ⦗٣٥٦⦘ جَبَلٍ أَنَّ زَيْغَةَ الْحَكِيمِ لَا تُوجِبُ الْإِعْرَاضَ عَنْهُ، وَلَكِنْ يُتْرَكُ مِنْ قَوْلِهِ مَا لَيْسَ عَلَيْهِ نُورٌ، فَإِنَّ عَلَى الْحَقِّ نُورًا، يَعْنِي - وَاللهُ أَعْلَمُ - دَلَالَةً مِنْ كِتَابٍ، أَوْ سُنَّةٍ، أَوْ إِجْمَاعٍ، أَوْ قِيَاسٍ عَلَى بَعْضِ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن عمیرہ، جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں، فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب بھی ذکر کی مجلس میں بیٹھتے تو فرماتے: اللہ عادل حاکم ہے اور ابوالیمان کہتے ہیں: «الْقِسْطُ» ”قسط“ یہ اللہ کا نام ہے، شک کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مجلس میں ایک دن فرمانے لگے: جو تمہارے بعد ہیں ان میں مال کا فتنہ ہو گا اور قرآن کو پڑھا جائے گا۔ اس کو مومن اور منافق لے لیں گے، آزاد، غلام، مرد، عورت، بڑا، چھوٹا، سب اپنا حصہ وصول کریں گے۔ کہنے والا کہے گا: میں قرآن پڑھتا ہوں لوگ میری پیروی نہیں کرتے۔ اللہ کی قسم! وہ میری پیروی نہ کریں گے جب تک میں ان کے لیے کوئی دوسری بات نہ کروں۔ نئی بات سے بچو کیونکہ یہ گمراہی ہوتی ہے اور حکیم آدمی کی گمراہی سے بچو؛ کیونکہ کبھی کبھی شیطان بھی حکیم آدمی کے منہ سے گمراہی والی بات کہلوا دیتا ہے اور کبھی منافق بھی سچی بات کہہ دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ کیا حکیم گمراہی والی بات اور منافق سچی بات کہہ دیتا ہے؟ کہتے ہیں: جب حکیم آدمی مشتبہ کلام کرے تو اس کو چھوڑ دو جب تک وہ وضاحت نہ کرے۔ ممکن ہے وہ اپنی بات سے رجوع کرے اور حق بات کہہ دے اور حق تو نور ہوتا ہے اور قاضی کی روایت میں ہے کہ وہ آپ کی تعریف نہ کرے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بتایا: حکیم آدمی سے اس کی کسی غلط بات کی وجہ سے اعراض کرنا واجب نہیں ہے، لیکن اس کا نور سے خالی قول چھوڑ دیا جائے۔ یعنی یہ دلالت کتاب، سنت، اجماع یا قیاس سے ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 20917
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اتَّقُوا زَلَّةَ الْعَالِمِ، وَانْتَظِرُوا فَيْئَتَهُ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عالم کی لغزش سے بچو اور اس کے رجوع کا انتظار کرو۔“
حدیث نمبر: 20918
وَفِي مِثْلِ هَذَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ الْوَلِيدِ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: " مَنْ أَخَذَ بِنَوَادِرِ الْعُلَمَاءِ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن شعیب بن شابور رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: جس نے علماء سے انوکھی چیزیں حاصل کیں، وہ اسلام سے نکل گیا۔
حدیث نمبر: 20919
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى التِّنِّيسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: " يُتْرَكُ مِنْ قَوْلِ أَهْلِ مَكَّةَ: الْمُتْعَةُ وَالصَّرْفُ، وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: السَّمَاعُ وَإِتْيَانُ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ، وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الشَّامِ: الْجَبْرُ وَالطَّاعَةُ، وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْكُوفَةِ: النَّبِيذُ وَالسَّحُورُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کا متعہ اور نقدی کے کاروبار والا قول چھوڑا جائے گا اور اہل مدینہ کا قول کہ عورتوں کی دبر میں آنا اور سماع کو چھوڑا جائے گا اور اہل شام کا قول کہ زبردستی اطاعت کروانا اور اہل کوفہ کا قول نبیذ اور بیدار رہنے کا قول چھوڑ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 20920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، مِنْ بَجِّ حُورَانَ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: " نَجْتَنِبُ أَوْ نَتْرُكُ مِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْعِرَاقِ خَمْسًا: وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْحِجَازِ خَمْسًا، مِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْعِرَاقِ: شُرْبَ الْمُسْكِرِ، وَالْأَكْلَ فِي الْفَجْرِ فِي رَمَضَانَ، وَلَا جُمُعَةَ إِلَّا فِي سَبْعَةِ أَمْصَارٍ، وَتَأْخِيرَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى يَكُونَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ أَرْبَعَةَ أَمْثَالِهِ، وَالْفِرَارَ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْحِجَازِ اسْتِمَاعَ الْمَلَاهِي، وَالْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ، وَالْمُتْعَةَ بِالنِّسَاءِ، وَالدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَالدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ يَدًا بِيَدٍ، وَإِتْيَانَ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اہل عراق کی پانچ باتیں چھوڑتے ہیں: (۱) نشہ آور چیز کا پینا، (۲) رمضان میں فجر کے وقت کھانا، (۳) صرف سات شہروں میں جمعہ کا ہونا، (۴) عصر کی نماز کو تاخیر سے پڑھنا یہاں تک کہ اس کا سایہ چار مثل ہو جائے اور (۵) لڑائی سے بھاگ جانا۔
اہل حجاز کے قول: (۱) نمازوں کو بغیر عذر کے جمع کرنا، (۲) عورتوں سے متعہ کرنا، (۳) ایک درہم کے عوض دو درہم، ایک دینار کے عوض دو دینار نقد و نقد، (۴) عورتوں کی دبر میں آنا اور (۵) کھیل تماشے کو سننا۔
اہل حجاز کے قول: (۱) نمازوں کو بغیر عذر کے جمع کرنا، (۲) عورتوں سے متعہ کرنا، (۳) ایک درہم کے عوض دو درہم، ایک دینار کے عوض دو دینار نقد و نقد، (۴) عورتوں کی دبر میں آنا اور (۵) کھیل تماشے کو سننا۔
حدیث نمبر: 20921
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ بْنَ سُرَيْجٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِسْحَاقَ الْقَاضِي يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُعْتَضِدِ، فَدَفَعَ إِلِيَّ كِتَابًا نَظَرْتُ فِيهِ، وَكَانَ قَدْ جَمَعَ لَهُ الرُّخَصَ مِنْ زَلَلِ الْعُلَمَاءِ، وَمَا احْتَجَّ بِهِ ⦗٣٥٧⦘ كُلٌّ مِنْهُمْ لِنَفْسِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مُصَنِّفُ هَذَا الْكِتَابِ زِنْدِيقٌ، فَقَالَ: أَلَمْ تَصِحَّ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ؟ قُلْتُ: " الْأَحَادِيثُ عَلَى مَا رُوِيَتْ، وَلَكِنَّ مَنْ أَبَاحَ الْمُسْكِرَ لَمْ يُبِحِ الْمُتْعَةَ، وَمَنْ أَبَاحَ الْمُتْعَةَ لَمْ يُبِحِ الْغِنَاءَ وَالْمُسْكِرَ، وَمَا مِنْ عَالِمٍ إِلَّا وَلَهُ زَلَّةٌ، وَمَنْ جَمَعَ زَلَلَ الْعُلَمَاءِ ثُمَّ أَخَذَ بِهَا ذَهَبَ دِينُهُ "، فَأَمَرَ الْمُعْتَضِدُ فَأُحْرِقَ ذَلِكَ الْكِتَابُ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن اسحاق قاضی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں معتضد کے پاس آیا، اس نے مجھے ایک کتاب دی، میں نے اس کو دیکھا تو اس میں علما کی لغزشیں اور جو ان کی ضروریات ہوتی ہیں ان کو جمع کیا گیا تھا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! اس کتاب کا مصنف زندیق ہے۔ وہ کہنے لگے: کیا یہ احادیث صحیح نہیں ہیں؟ میں نے کہا: احادیث اسی طرح روایت کی گئی ہیں لیکن جس نے نشہ آور چیز کو مباح کہا ہے وہ متعہ کو جائز نہیں خیال کرتا اور جو متعہ کو جائز خیال کرتا ہے وہ گانے اور نشہ آور چیز کو جائز خیال نہیں کرتا، ہر عالم سے لغزش ہو جاتی ہے اور جس نے علما کی لغزش کو جمع کیا، پھر اس پر عمل کیا، اس کا دین گیا؛ تو معتضد نے اس کتاب کو جلانے کا حکم دیا۔