السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الاختلاف في اللعب بالشطرنج باب: شطرنج کھیلنے کے بارے میں اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 20932
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ الْحُسَيْنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ أَبُو إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ تَيْمِ اللهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ بِالشِّطْرَنْجِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ لِغَيْرِ هَذَا خُلِقْتُمْ، أَمَا وَاللهِ لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً لَضَرَبْتُ بِهَا وُجُوهَكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
عمار بن ابی عمار فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تیم اللہ کی مجلس کے پاس سے گزرے، وہ شطرنج کھیل رہے تھے، آپ ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم اس کے علاوہ کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ اللہ کی قسم! یہ سنت ہوتی تو میں تمہارے سامنے کھیلتا۔“