❮
❯
حدیث نمبر: 20927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الرَّمَادِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ: " رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيَّ وَكَانَ يَلْعَبُ بِالشِّطْرَنْجِ ". فَجَعَلَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ اللَّعِبَ بِالشِّطْرَنْجِ مِنَ الْمَسَائِلِ الْمُخْتَلَفِ فِيهَا، فِي أَنَّهُ لَا يُوجِبُ رَدَّ الشَّهَادَةِ، فَأَمَّا كَرَاهِيَةُ اللَّعِبِ بِهَا فَقَدْ صَرَّحَ بِهَا فِيمَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَهُوَ الْأَشْبَهُ وَالْأُولَى بِمَذْهَبِهِ، فَالَّذِينَ كَرِهُوا أَكْثَرُ، وَمَعَهُمْ مَنْ يُحْتَجُّ بِقَوْلِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم ہجری کو دیکھا، وہ شطرنج کھیلا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے شطرنج کھیلنے کو اختلافی مسائل میں سے شمار کیا ہے، اس معنی میں کہ یہ گواہی کے رد ہونے کو واجب نہیں کرتا، رہی اس کے کھیلنے کی کراہت تو اس کی انہوں نے صراحت کی ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور یہی ان کے مذہب کے زیادہ مشابہ اور اولیٰ ہے، ناپسند کرنے والے زیادہ ہیں اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جن کے قول سے دلیل لی جاتی ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20927
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»