السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الاختلاف في اللعب بالشطرنج باب: شطرنج کھیلنے کے بارے میں اختلاف کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِذَا كَانُوا هَكَذَا - يَعْنِي: أَهْلَ الْأَهْوَاءِ، فَاللَّاعِبُ بِالشِّطْرَنْجِ وَإِنْ كَرِهْنَا لَهُ، وَبِالْحَمَامِ، وَإِنْ كَرِهْنَا لَهُ، أَخَفُّ حَالًا مِنْ هَؤُلَاءِ بِمَا لَا يُحْصَى وَلَا يُقَدَّرُ. وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِمَا فِيهِ أَيْضًا مِنَ اخْتِلَافِ الْعُلَمَاءِ..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور جب وہ، یعنی اہل اہواء (بدعتی)، اس طرح (مقبول الشہادۃ) ہیں، تو شطرنج کھیلنے والا، اگرچہ ہم اسے اس کے لیے ناپسند کرتے ہیں، اور کبوتر بازی کرنے والا، اگرچہ ہم اسے اس کے لیے ناپسند کرتے ہیں، ان لوگوں کے مقابلے میں اتنا زیادہ ہلکے حال والا ہے جس کا نہ شمار کیا جا سکتا ہے اور نہ اندازہ۔“
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ اس (شطرنج کے مسئلے) میں بھی علماء کا اختلاف ہے...
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: لَعِبَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِالشِّطْرَنْجِ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، فَيَقُولُ: " بِأَيْشْ دَفَعَ كَذَا؟ قَالَ: بِكَذَا، قَالَ: ادْفَعْ بِكَذَا ".ربیع بن سلمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ شطرنج کھیل لیتے تھے اور کہتے: ”اس طرح دور کر۔“