کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی فیصلہ نہ کرے مگر اس حال میں کہ وہ پیٹ بھر کر کھایا ہوا اور سیراب ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو طُوَالَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقْضِي الْقَاضِي إِلَّا هُوَ شَبْعَانُ رَيَّانُ ". تَفَرَّدَ بِهِ الْقَاسِمُ الْعُمَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ يُؤَدِّي مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاضی صرف آسودگی کی حالت میں فیصلہ کرے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں قاسم عمری منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں، اور اس سے پہلے والے باب کی صحیح حدیث اسی معنی کو ادا کرتی ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں قاسم عمری منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں، اور اس سے پہلے والے باب کی صحیح حدیث اسی معنی کو ادا کرتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا وَقَالَ: " هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ: " ثُمَّ إِيَّاكَ وَالضَّجَرَ وَالْقَلَقَ وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ، وَالتَّنَكُّرَ بِالْخُصُومِ فِي مَوَاطِنِ الْحَقِّ، الَّتِي ⦗١٨٢⦘ يُوجِبُ اللهُ تَعَالَى بِهَا الْأَجْرَ، وَيُكْسِبُ بِهَا الذُّخْرَ، فَإِنَّهُ مَنْ يُصْلِحْ سَرِيرَتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ، أَصْلَحَ اللهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللهُ مِنْهُ خِلَافَ ذَلِكَ يُشِنْهُ اللهُ، فَمَا ظَنُّكَ بِثَوَابِ غَيْرِ اللهِ فِي عَاجِلِ الدُّنْيَا، وَخَزَائِنِ رَحْمَتِهِ؟ وَالسَّلَامُ ".
حافظ ثناء اللہ
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ہمارے سامنے ایک خط نکالا اور فرمانے لگے: یہ خط عمر رضی اللہ عنہ کا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام ہے، اس میں لکھا ہے: ”پریشانی، لوگوں کو تکلیف دینے اور حق کی جگہوں پر جھگڑوں سے بچو جس کی وجہ سے اللہ اجر کو ثابت کرتے ہیں اور بندے کے لیے ذخیرہ فرماتے ہیں۔ جو اپنے باطن کو اللہ کے سامنے صاف اور درست رکھتا ہے، اللہ اس کے اور لوگوں کے درمیان معاملات درست کر دیتے ہیں۔ جو لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو اس چیز سے مزین کر کے پیش کرتا ہے جس کے برخلاف اللہ اس کے بارے میں جانتا ہے، اللہ اس کو بدنما بنا دیتا ہے۔ پس دنیا میں جلد ملنے والے غیر اللہ کے ثواب کے بارے میں، اللہ کی رحمت کے خزانوں کے مقابلے میں، تمہارا کیا گمان ہے؟ والسلام۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، أنبأ حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ شُرَيْحٍ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا غَضِبَ، أَوْ جَاعَ قَامَ، فَلَمْ يَقْضِ بَيْنَ أَحَدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو حریز، قاضی شریح رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ بھوکے یا غصے میں ہوتے، تو فیصلہ نہ فرماتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى لَا يَقْعُدُ لِلْقَضَاءِ إِلَّا يُؤْتَى بِقَصْعَةٍ، فَيَأْكُلُ، ثُمَّ يُؤْتَى بِغَالِيَةٍ فَيَتَغَلَّفُ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ النِّسَاءِ أَجْلَسَ مَعَهُ رَجُلًا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمارہ بن شبرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فیصلہ کے لیے نہ بیٹھتے تھے، جب تک ان کے پاس کھانے کا ایک پیالہ نہ لایا جاتا، وہ اس سے کھاتے، پھر غالیہ (خوشبو) لائی جاتی تو اسے لگاتے، لیکن جب عورتوں کی باری ہوتی تو اس دن ان کے ساتھ ایک اور آدمی موجود ہوتا تھا۔