السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا يقضي القاضي إلا وهو شبعان ريان باب: قاضی فیصلہ نہ کرے مگر اس حال میں کہ وہ پیٹ بھر کر کھایا ہوا اور سیراب ہو۔
حدیث نمبر: 20285
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى لَا يَقْعُدُ لِلْقَضَاءِ إِلَّا يُؤْتَى بِقَصْعَةٍ، فَيَأْكُلُ، ثُمَّ يُؤْتَى بِغَالِيَةٍ فَيَتَغَلَّفُ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ النِّسَاءِ أَجْلَسَ مَعَهُ رَجُلًا.حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمارہ بن سبرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فیصلہ کے لیے نہ بیٹھتے تھے، جب تک ان کے پاس کھانے کا ایک پیالہ نہ لایا جاتا، پھر اس کو ڈھانپ دیتے، لیکن جب عورتوں کی باری ہوتی تو اس دن ان کے ساتھ ایک اور آدمی موجود ہوتا تھا۔