❮
❯
حدیث نمبر: 20285
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى لَا يَقْعُدُ لِلْقَضَاءِ إِلَّا يُؤْتَى بِقَصْعَةٍ، فَيَأْكُلُ، ثُمَّ يُؤْتَى بِغَالِيَةٍ فَيَتَغَلَّفُ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ النِّسَاءِ أَجْلَسَ مَعَهُ رَجُلًا.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن عمارہ بن شبرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فیصلہ کے لیے نہ بیٹھتے تھے، جب تک ان کے پاس کھانے کا ایک پیالہ نہ لایا جاتا، وہ اس سے کھاتے، پھر غالیہ (خوشبو) لائی جاتی تو اسے لگاتے، لیکن جب عورتوں کی باری ہوتی تو اس دن ان کے ساتھ ایک اور آدمی موجود ہوتا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20285