حدیث نمبر: 20275
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يَقُولُ: كَتَبَ أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى ابْنِهِ وَهُوَ عَلَى سَجِسْتَانَ: " لَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَقْضِي حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو لکھا، جب وہ سجستان میں تھے کہ دو کے درمیان بھی غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا؛ کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”دو کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 20276
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُوعَوَانَةَ، ثنا ⦗١٨٠⦘ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: " كَتَبَ أَبِي وَكَتَبْتُ لَهُ بِيَدِي إِلَى ابْنِهِ عُبَيْدِ اللهِ وَهُوَ عَلَى سَجِسْتَانَ: " لَا أَعْرِفَنَّ مَا حَكَمْتَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ: " لَا يَحْكُمَنَّ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) نے لکھا، اور میں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھ کر اپنے بھائی کو بھیجا جو سجستان میں تھے کہ مجھے یہ خبر نہ ملے کہ تو نے دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کیا ہے؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ”قاضی دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 20277
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، أنبأ سُفْيَانُ: يَعْنِي الثَّوْرِيَّ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ: يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، كُلُّهُمْ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ ". مَعْنَاهُمْ وَاحِدٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاضی غصہ کی حالت میں دو کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 20278
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " لَا تَغْضَبْ "، قَالَ الرَّجُلُ: فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ، فَإِذَا الْغَضَبُ يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبدالرحمن نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے عرض کیا: مجھے وصیت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کیا کر۔“ آدمی نے کہا: میں نے غور و فکر کیا، جب نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ غصہ ہی تمام شر کا مجموعہ ہے۔“
حدیث نمبر: 20279
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " أَوْصِنِي "، قَالَ: " لَا تَغْضَبْ "، فَتَرَدَّدَ إِلَيْهِ مِرَارًا، لَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ " لَا تَغْضَبْ ". ⦗١٨١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يُوسُفَ. وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کیا کر۔“ اسی بات کو آپ ﷺ نے کئی مرتبہ دہرایا، لیکن اس میں کچھ اضافہ نہ کیا۔
حدیث نمبر: 20280
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا أَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَأَقْلِلْ، لَعَلِّي أَعْقِلُ، قَالَ: " لَا تَغْضَبْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں جس کے ذریعے میں جنت میں داخل ہو جاؤں اور ہو بھی کم تاکہ میں سمجھ سکوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کر۔“
حدیث نمبر: 20281
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ، وَالصَّيْرَفِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ - هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَرُوِيَ مِنْ، وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ یا سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں (شک ہے) کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے ایسی چیز سکھائیں جو مجھے نفع دے اور وہ مختصر ہو تاکہ میں اسے یاد رکھ سکوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کیا کر۔“ اس نے دوبارہ عرض کیا: مجھے ایسی چیز سکھائیں جو مجھے نفع دے۔ آپ ﷺ نے کئی مرتبہ یہی بات دہرائی: ”غصہ نہ کیا کر۔“