کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قاضی غصے کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ حق کے موافق ہو جائے۔
حدیث نمبر: 20286
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، فَرَّقَهُمَا قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى - هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ "، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " يَا زُبَيْرُ، اسْقِ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ "، قَالَ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کو پانی دینے کے متعلق جھگڑا کیا۔ انصاری نے کہا: پانی چھوڑ دو۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا۔ وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! پانی کھجوروں کو دینے کے بعد اپنے ہمسائے کو دے دینا۔“ انصاری کو غصہ آگیا، کہنے لگا: یہ آپ کے چچا کا بیٹا ہے، تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ اور پھر روکے رکھو یہاں تک کہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔“ اور زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ مان لیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20286
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20287
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شَرْجٍ مِنَ الْحَرَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ "، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ الْمَاءُ ⦗١٨٣⦘ إِلَى الْجَدْرِ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ ". قَالَ: وَاسْتَوعَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أَحْفَظَهُ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا قَبْلَ ذَلِكَ بِأَمْرٍ كَانَ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ قَالَ الزُّبَيْرُ: " فَمَا أَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥]. قَالَ: " فَسَمِعْتُ غَيْرَ الزُّهْرِيِّ يَقُولُ: " نَظَرْنَا فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ " فَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے کے پانی کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ، پھر (باقی) اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ انصاری کہنے لگا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے! (یہ سن کر) آپ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ اور روکے رکھو، یہاں تک کہ منڈیروں تک جا پہنچے، پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑ دو۔“ تو نبی ﷺ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دیا جب انصاری نے اعتراض کیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ ﷺ نے وسعت والا معاملہ کیا تھا۔
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”اللہ کی قسم! وہ ایماندار نہیں ہو سکتے، جب تک آپ کو اپنے فیصلوں میں فیصل نہ مان لیں۔“ کہتے ہیں کہ میں نے زہری کے علاوہ دوسروں سے سنا کہ ہم نے نبی ﷺ کے قول میں دیکھا کہ ”پانی روک یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے“، یہ ٹخنوں تک تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20287
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»