السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا يقضي القاضي إلا وهو شبعان ريان باب: قاضی فیصلہ نہ کرے مگر اس حال میں کہ وہ پیٹ بھر کر کھایا ہوا اور سیراب ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا وَقَالَ: " هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ: " ثُمَّ إِيَّاكَ وَالضَّجَرَ وَالْقَلَقَ وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ، وَالتَّنَكُّرَ بِالْخُصُومِ فِي مَوَاطِنِ الْحَقِّ، الَّتِي ⦗١٨٢⦘ يُوجِبُ اللهُ تَعَالَى بِهَا الْأَجْرَ، وَيُكْسِبُ بِهَا الذُّخْرَ، فَإِنَّهُ مَنْ يُصْلِحْ سَرِيرَتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ، أَصْلَحَ اللهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللهُ مِنْهُ خِلَافَ ذَلِكَ يُشِنْهُ اللهُ، فَمَا ظَنُّكَ بِثَوَابِ غَيْرِ اللهِ فِي عَاجِلِ الدُّنْيَا، وَخَزَائِنِ رَحْمَتِهِ؟ وَالسَّلَامُ ".ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ہمارے سامنے ایک خط نکالا اور فرمانے لگے: یہ خط عمر رضی اللہ عنہ کا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام ہے، اس میں لکھا ہے: ”پریشانی، لوگوں کو تکلیف دینے اور حق کی جگہوں پر جھگڑوں سے بچو جس کی وجہ سے اللہ اجر کو ثابت کرتے ہیں اور بندے کے لیے ذخیرہ فرماتے ہیں۔ جو اپنے باطن کو اللہ کے سامنے صاف اور درست رکھتا ہے، اللہ اس کے اور لوگوں کے درمیان معاملات درست کر دیتے ہیں۔ جو لوگوں کے لیے کسی چیز کو مزین کر کے پیش کرتا ہے، اللہ اس کو بدنما بنا دیتا ہے۔ پس تمہارا دنیا کے جلد ملنے والے ثواب اور اللہ کی رحمت اور سلامتی کے خزانوں کے بارے میں کیا گمان ہے؟“