السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من نذر نذرا في معصية الله باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کی نافرمانی کے کام کی نذر مانی۔
حدیث نمبر: 20058
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ قَالَ: " قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: رَجُلٌ نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ ابْنَهُ؟ "، فَقَالَ: " لَعَلَّكَ مِنَ الْقَيَّاسِينَ، مَا عَلِمْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ كَانَ أَطْلَبَ لَعِلْمٍ فِي أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ مِنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
ایوب بن عائذ طائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ ایک آدمی نے نذر مانی کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے گا۔ انہوں نے کہا: معلوم ہوتا ہے تو قیاس کرنے والوں میں سے ہے، میں لوگوں میں سے کسی ایسے کو نہیں جانتا جو «الأطراف» یعنی اطراف (کناروں) سے علم حاصل کرنے والا ہو مسروق رحمہ اللہ سے بڑھ کر۔ وہ فرماتے ہیں: ”نافرمانی میں نذر نہیں ہے۔“