السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من نذر نذرا في معصية الله باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کی نافرمانی کے کام کی نذر مانی۔
حدیث نمبر: 20056
قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَصْلُ مَعْقُولِ قَوْلِ عَطَاءٍ فِي هَذَا: أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَلَا كَفَّارَةٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَإِنَّمَا أَبْطَلَ اللهُ النَّذْرَ فِي الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ أَنَّهَا مَعْصِيَةٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي ذَلِكَ كَفَّارَةً، وَبِذَلِكَ جَاءَتِ السُّنَّةُ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس بارے میں عطاء رحمہ اللہ کے قول کی عقلی بنیاد یہ ہے کہ وہ اس طرف گئے ہیں کہ اس پر نہ قضا ہے اور نہ کفارہ۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بحیرہ اور سائبہ (جانوروں) کی نذر کو اسی لیے باطل قرار دیا کہ وہ معصیت ہے، اور اس میں کسی کفارے کا ذکر نہیں فرمایا، اور اسی کے مطابق سنت بھی وارد ہوئی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللهَ فَلَا يَعْصِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَأَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد، نبی ﷺ کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اطاعت میں نذر مانی وہ اطاعت کرے، اور جس نے اللہ کی نافرمانی میں نذر مانی وہ نافرمانی نہ کرے۔“