السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من نذر نذرا في معصية الله باب: اس شخص کا بیان جس نے اللہ کی نافرمانی کے کام کی نذر مانی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ نَذَرَتْ وَهَرَبَتْ عَلَى نَاقَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ نَجَّاهَا اللهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْقَوْلَ، وَأَخَذَ نَاقَتَهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَأْمُرْهَا أَنْ تَنْحَرَ مِثْلَهَا، وَلَا تُكَفِّرَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَبِذَلِكَ نَقُولُ: إِنَّ مَنْ نَذَرَ تَبَرُّرًا أَنْ يَنْحَرَ مَالَ غَيْرِهِ، فَالنَّذْرُ سَاقِطٌ عَنْهُ، وَمَنْ نَذَرَ مَا لَا يُطِيقُ أَنْ يَعْمَلَهُ بِحَالٍ سَقَطَ النَّذْرُ عَنْهُ، لِأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ أَنْ يَعْمَلَهُ، فَهُوَ كَمَا لَا يَمْلِكُ مَا سِوَاهُ ".سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نافرمانی میں اور جس چیز کا ابنِ آدم مالک نہیں ہے، اس میں کوئی نذر نہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نقل کرتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت تھی، اس نے نذر مانی اور اپنی اونٹنی پر نبی ﷺ کی طرف بھاگ آئی اور کہا کہ (اگر اللہ نے) اس کو نجات دی تو وہ اسے ذبح کرے گی، تو آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی اور اونٹنی کو پکڑ لیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہ تو آپ ﷺ نے اسے ذبح کا حکم دیا اور نہ ہی کفارے کے بارے میں کچھ فرمایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے نذر مانی اور غیر کے مال سے اپنی نذر پوری کرنا چاہی تو وہ نذر ساقط ہو جائے گی؛ کیونکہ ایسی نذر کا پورا کرنا نہیں ہوتا جس کا انسان مالک نہیں ہے۔