أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِمِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: فَأَتَيْنَا السَّاحِلَ فَأَقَمْنَا بِهِ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ. قَالَ: فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ. قَالَ: فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا. قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ وَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ. قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلًا وَبَعِيرًا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهِ. قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْعَلَاءِ عَنْ سُفْيَانَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تین سو کا قافلہ نبی ﷺ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی امارت میں روانہ کیا تاکہ ہم قریشی قافلوں پر نگاہ رکھیں، ہم نے ساحلِ سمندر پر قیام کیا، دوسری مرتبہ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم ساحلِ سمندر پر آدھا ماہ ٹھہرے رہے، ہمیں سخت بھوک لگی، جس کی بنا پر پتے کھانے پر مجبور ہوئے تو اس لشکر کا نام ہی «جیش الخبط» رکھ دیا گیا، پھر سمندر نے ساحل پر مچھلی پھینکی جس کو «عنبر» کہا جاتا ہے، ہم نے نصف ماہ مچھلی کھائی اور اس کی چربی کا تیل لگایا، یہاں تک کہ ہمارے جسم مضبوط ہو گئے، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک لے کر کھڑی کی اور اپنے ساتھ ایک لمبا آدمی لے کر (اس کے نیچے سے) گزر گئے، دوسری مرتبہ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے مچھلی کی ایک پسلی کھڑی کر کے اپنے ساتھ ایک آدمی اور اونٹ سمیت اس کے نیچے سے گزر گئے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے تین اونٹ ایک مرتبہ، دوسری اور تیسری مرتبہ بھی تین تین اونٹ ذبح کیے، پھر سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کر دیا۔
وَرَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ، فَلَمْ يَذْكُرِ السَّاحِلَ وَقَالَ: وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ ثُمَّ نَظَرَ أَطْوَلَ رَجُلٍ وَأَعْظَمَ جَمَلٍ فِي الْجَيْشِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ الْجَمَلَ ثُمَّ يَمُرَّ تَحْتَهُ فَفَعَلَ فَمَرَّ تَحْتَهُ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ " قُلْنَا: لَا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حمیدی، سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ساحل کا ذکر نہیں کیا، فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لے کر کھڑی کی۔ پھر ایک لمبے آدمی اور لشکر میں بڑے اونٹ کا انتخاب کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ سوار ہو کے اس کے نیچے سے گزر جائے تو وہ گزر گیا۔ ہم نے نبی ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ موجود ہے؟“ ہم نے کہا: اب تو کچھ موجود نہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ يُرَ مِثْلُهُ يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ. ⦗٤٢٢⦘ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: كُلُوا، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللهُ، أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ ". فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ فَأَكَلَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ مَعَ زِيَادَةِ أَبِي الزُّبَيْرِ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جیش الخبط کی جنگ لڑی، ہمارے امیر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ہم نے شدید بھوک محسوس کی تو سمندر نے ساحل پر مردہ مچھلی پھینکی، ہم نے اتنی بڑی مچھلی نہ دیکھی تھی۔ اس کا نام عنبر تھا۔ ہم اسے پندرہ روز تک کھاتے رہے، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی کھڑی کی تو سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔
(ب) ابو زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کھا لو، جب ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو ہم نے آپ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے لیے رزق نکالا اسے کھاؤ، بلکہ اگر تمہارے پاس ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔“ آپ ﷺ کی خدمت میں اس کا بعض حصہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔
(ب) ابو زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کھا لو، جب ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو ہم نے آپ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے لیے رزق نکالا اسے کھاؤ، بلکہ اگر تمہارے پاس ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔“ آپ ﷺ کی خدمت میں اس کا بعض حصہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً، فَقُلْنَا: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا؟ قَالَ: نَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، وَكُنَّا نَضْرِبُ الْخَبَطَ بِعِصِيِّنَا ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُهُ، فَأَصَبْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ مِثْلَ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ دَابَّةً تُدْعَى الْعَنْبَرَ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ، ثُمَّ قَالَ: لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا، فَأَكَلْنَا مِنْهُ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا، وَلَقَدْ كُنَّا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ، وَنَقْطَعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ، وَلَقَدْ أَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ مِنَّا ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَقَامَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنَيْهِ، وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ فَمَرَّ تَحْتَهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللهُ لَكُمْ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا؟ ". فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ قَالَ: وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ فَأَتَيْنَاهُ، فَإِذَا دَابَّةُ الْعَنْبَرِ، وَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ عَيْنِهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ، وَقَالَ: فَأَقْعَدَهُمْ فِي عَيْنَيْهِ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کر کے بھیجا تاکہ ہم قریش کے قافلوں کی نگرانی کر سکیں اور ہمارے پاس کھجوروں کی ایک تھیلی کے علاوہ کوئی زادِ راہ نہ تھا تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں صرف ایک ایک کھجور دیتے۔ ہم نے پوچھا: تم اس کا کیا کرتے تھے؟ راوی کہتے ہیں: ہم اس کو چوستے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر اس کے بعد پانی پی لیتے جو ہمیں ایک دن کے لیے کافی ہوتا اور ہم اپنی لاٹھیوں سے پتے جھاڑ کر پانی میں تر کر کے کھا لیتے تو ہمیں ساحلِ سمندر پر ایک بڑے ٹیلے کی مانند ایک مچھلی نظر آئی، اس کا نام عنبر تھا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے، پھر کہنے لگے: ہم اللہ کے راستے میں رسول اللہ ﷺ کے قاصد ہیں، مجبور کیے گئے ہیں، کھاؤ۔ ہم تین سو افراد نے ایک مہینہ تک مچھلی کھائی یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے اور ہم اس مچھلی کی آنکھ کے گھڑے سے ایک گھڑا تیل کا نکال لیتے تھے اور اس سے بیل کی مانند ایک ٹکڑا کاٹ لیتے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے تیرہ آدمی لے کر آنکھ کے سوراخ میں کھڑے کر دیے اور اس کی ایک پسلی کھڑی کر کے اس کے نیچے سے ایک بڑے اونٹ پر کجاوا رکھ کر گزار دیا اور ہم نے اس کا گوشت زادِ راہ کے لیے اختیار کر لیا۔ ہم نے مدینہ میں آ کر رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اللہ نے تمہارے لیے رزق نکالا تھا۔ کیا تمہارے پاس اس کا گوشت ہے، ہمیں بھی کھلاؤ؟“ تو کچھ حصہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا تو آپ ﷺ نے تناول فرمایا۔
(ب) احمد بن یونس کی روایت میں ہے کہ ہم ساحلِ سمندر پر چلے تو ہم نے ایک بڑے ٹیلے کی مانند کوئی چیز دیکھی، جب ہم اس کے قریب آئے تو وہ عنبر مچھلی تھی۔ ہم اس کی آنکھ کے سوراخ سے چربی کا ایک برتن نکال لیتے تھے اور ہم بیل کے مانند اس سے ٹکڑا کاٹ لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھیں اس مچھلی کے آنکھ کے سوراخ میں بٹھایا گیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اس کا گوشت ہم نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا تو آپ ﷺ نے تناول فرمایا۔
(ب) احمد بن یونس کی روایت میں ہے کہ ہم ساحلِ سمندر پر چلے تو ہم نے ایک بڑے ٹیلے کی مانند کوئی چیز دیکھی، جب ہم اس کے قریب آئے تو وہ عنبر مچھلی تھی۔ ہم اس کی آنکھ کے سوراخ سے چربی کا ایک برتن نکال لیتے تھے اور ہم بیل کے مانند اس سے ٹکڑا کاٹ لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھیں اس مچھلی کے آنکھ کے سوراخ میں بٹھایا گیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اس کا گوشت ہم نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا تو آپ ﷺ نے تناول فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ السَّرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ وَأَمَّرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُمِائَةٍ. قَالَ ⦗٤٢٣⦘ جَابِرٌ: وَأَنَا فِيهِمْ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِكَ الْجَيْشِ فَجُمِعَ فَكَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ. قَالَ: فَكَانَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ يَعْنِي قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّى فَنِيَ فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ إِلَّا تَمْرَةٌ، فَقُلْتُ: مَا تُغْنِي تَمْرَةٌ؟ فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ، ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ فَإِذَا بِحُوتٍ مِثْلِ الظَّرِبِ فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهَا وَلَمْ يُصِبْهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو تین سو آدمیوں کا امیر مقرر کر کے ساحلِ سمندر کی جانب روانہ کیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی ان میں شامل تھا، جب ہم نے کچھ سفر طے کیا تو ہمارا زادِ راہ ختم ہو گیا۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے پورے لشکر کا زادِ راہ جمع کر لیا جو کھجور کی دو تھیلیاں تھیں، تو ہر دن ہماری تھوڑی تھوڑی خوراک ہوا کرتی تھی، یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گئی، پھر ہمیں روزانہ ایک کھجور ملتی تھی۔ میں نے پوچھا: کیا ایک کھجور کفایت کر جاتی تھی؟ راوی کہتے ہیں: جب زادِ راہ ختم ہو گیا تو ہم ساحلِ سمندر پر آ گئے، جہاں ٹیلے کی مانند ایک مچھلی پڑی تھی تو پورے لشکر نے اٹھارہ دن اس کو کھایا، پھر سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو سواری پر کجاوا رکھ کر اسے اس کے نیچے سے گزارا گیا جو اس کی اونچائی تک نہ پہنچ سکی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً أَنَا فِيهِمْ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ، فَأَرْمَلْنَا الزَّادَ حَتَّى جَمَعْنَا مَا مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ فَجَعَلْنَاهُ وَاحِدًا، حَتَّى كَانَ يُعْطِي كُلَّ إِنْسَانٍ قَدْرَ مَا يُصِيبُهُ، حَتَّى مَا كَانَ يُصِيبُ إِنْسَانًا إِلَّا تَمْرَةٌ كُلَّ يَوْمٍ، فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ وَمَا تُغْنِي عَنْ رَجُلٍ تَمْرَةٌ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي قَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ. قَالَ جَابِرٌ: فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ رَأَيْنَا سَوَادًا، فَلَمَّا غَشِينَا إِذَا دَابَّةٌ مِنَ الْبَحْرِ قَدْ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَأَنَاخَ عَلَيْهَا الْعَسْكَرُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَيَأْكُلُونَ مِنْهَا مَا شَاءُوا حَتَّى أَرْبَعُوا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ساحلِ سمندر کی جانب ایک چھوٹا لشکر بھیجا، ہمارا زادِ راہ ختم ہو گیا یہاں تک کہ ہم نے تمام لشکر سے زادِ راہ کو جمع کیا اور ہر دن ایک شخص کے حصہ میں صرف ایک کھجور آتی تھی۔ ایک شخص نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! کیا ایک کھجور انسان کو کفایت کر جاتی تھی؟ انہوں نے کہا: اے بھتیجے! ہم نے زادِ راہ کے ختم ہونے کو پا لیا جس وقت وہ ختم ہو گیا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی دوران ہم نے بہت بڑی چیز دیکھی۔ جب ہم اس کے قریب گئے تو وہ سمندر سے باہر ڈالی گئی مچھلی تھی، تو لشکر نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا، وہ جتنا چاہتے کھاتے یہاں تک کہ وہ موٹے تازے ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مَوْلَى الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنْا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم سمندری سفر میں اپنے ساتھ تھوڑا پانی رکھتے ہیں۔ اگر اس کے ساتھ وضو کریں تو پیاسے رہ جاتے ہیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پانی پاک اور مردار حلال ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ اللهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبَحْرِ فَقَالَ: " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے سمندر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پانی پاک اور مردار حلال ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ ذَكَّى لَكُمْ صَيْدَ الْبَحْرِ ". هَذَا إِسْنَادٌ غَيْرُ قَوِيٍّ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے لیے سمندر کا شکار ذبح کے حکم میں رکھا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ ذَبَحَ لَكُمْ مَا فِي الْبَحْرِ فَكُلُوهُ كُلَّهُ فَإِنَّهُ ذَكِيٌّ ". وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَا فِي الْبَحْرِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا قَدْ ذَكَّاهُ اللهُ لَكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سمندر میں موجود شکار اللہ نے تمہارے لیے ذبح کر دیا ہے، تم کھاؤ، کیونکہ یہ ذبح شدہ ہے۔
(ب) ابو عبد الرحمن نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سمندر میں موجود چیزیں اللہ نے تمہارے لیے ذبح کر دی ہیں۔
(ب) ابو عبد الرحمن نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سمندر میں موجود چیزیں اللہ نے تمہارے لیے ذبح کر دی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ مَيْتَةِ الْبَحْرِ، فَقَالَ: " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " وَرُوِي عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعَا شُرَيْحًا رَجُلًا أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ فِي الْبَحْرِ مَذْبُوحٌ ". وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ شُرَيْحٍ مَرْفُوعًا، وَرُوِيَ عَنْ جَابِرٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ مَرْفُوعًا. وَفِي بَعْضِ مَا ذَكَرْنَا إِسْنَادَهُ كِفَايَةٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سمندری مردار کے بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا پانی پاک اور مردار حلال ہے۔ (ب) عمرو بن دینار اور ابوزبیر نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے سنا، جو کہتے تھے کہ سمندر میں ہر چیز ذبح شدہ ہے۔