حدیث نمبر: 18959
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِمِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: فَأَتَيْنَا السَّاحِلَ فَأَقَمْنَا بِهِ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ. قَالَ: فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ. قَالَ: فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا. قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ وَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ. قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلًا وَبَعِيرًا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهِ. قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْعَلَاءِ عَنْ سُفْيَانَ..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تین سو کا قافلہ نبی ﷺ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی امارت میں روانہ کیا تاکہ ہم قریشی قافلوں پر نگاہ رکھیں، ہم نے ساحلِ سمندر پر قیام کیا، دوسری مرتبہ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم ساحلِ سمندر پر آدھا ماہ ٹھہرے رہے، ہمیں سخت بھوک لگی، جس کی بنا پر پتے کھانے پر مجبور ہوئے تو اس لشکر کا نام ہی «جیش الخبط» رکھ دیا گیا، پھر سمندر نے ساحل پر مچھلی پھینکی جس کو «عنبر» کہا جاتا ہے، ہم نے نصف ماہ مچھلی کھائی اور اس کی چربی کا تیل لگایا، یہاں تک کہ ہمارے جسم مضبوط ہو گئے، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک لے کر کھڑی کی اور اپنے ساتھ ایک لمبا آدمی لے کر (اس کے نیچے سے) گزر گئے، دوسری مرتبہ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے مچھلی کی ایک پسلی کھڑی کر کے اپنے ساتھ ایک آدمی اور اونٹ سمیت اس کے نیچے سے گزر گئے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے تین اونٹ ایک مرتبہ، دوسری اور تیسری مرتبہ بھی تین تین اونٹ ذبح کیے، پھر سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18959
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»