حدیث نمبر: 18964
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً أَنَا فِيهِمْ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ، فَأَرْمَلْنَا الزَّادَ حَتَّى جَمَعْنَا مَا مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ فَجَعَلْنَاهُ وَاحِدًا، حَتَّى كَانَ يُعْطِي كُلَّ إِنْسَانٍ قَدْرَ مَا يُصِيبُهُ، حَتَّى مَا كَانَ يُصِيبُ إِنْسَانًا إِلَّا تَمْرَةٌ كُلَّ يَوْمٍ، فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ وَمَا تُغْنِي عَنْ رَجُلٍ تَمْرَةٌ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي قَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ. قَالَ جَابِرٌ: فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ رَأَيْنَا سَوَادًا، فَلَمَّا غَشِينَا إِذَا دَابَّةٌ مِنَ الْبَحْرِ قَدْ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَأَنَاخَ عَلَيْهَا الْعَسْكَرُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَيَأْكُلُونَ مِنْهَا مَا شَاءُوا حَتَّى أَرْبَعُوا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ساحلِ سمندر کی جانب ایک چھوٹا لشکر بھیجا، ہمارا زادِ راہ ختم ہو گیا یہاں تک کہ ہم نے تمام لشکر سے زادِ راہ کو جمع کیا اور ہر دن ایک شخص کے حصہ میں صرف ایک کھجور آتی تھی۔ ایک شخص نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! کیا ایک کھجور انسان کو کفایت کر جاتی تھی؟ انہوں نے کہا: اے بھتیجے! ہم نے زادِ راہ کے ختم ہونے کو پا لیا جس وقت وہ ختم ہو گیا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی دوران ہم نے بہت بڑی چیز دیکھی۔ جب ہم اس کے قریب گئے تو وہ سمندر سے باہر ڈالی گئی مچھلی تھی، تو لشکر نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا، وہ جتنا چاہتے کھاتے یہاں تک کہ وہ موٹے تازے ہو گئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18964
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»