السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الحيتان وميتة البحر باب: مچھلیوں اور سمندری مردار کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ السَّرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ وَأَمَّرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُمِائَةٍ. قَالَ ⦗٤٢٣⦘ جَابِرٌ: وَأَنَا فِيهِمْ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِكَ الْجَيْشِ فَجُمِعَ فَكَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ. قَالَ: فَكَانَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ يَعْنِي قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّى فَنِيَ فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ إِلَّا تَمْرَةٌ، فَقُلْتُ: مَا تُغْنِي تَمْرَةٌ؟ فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ، ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ فَإِذَا بِحُوتٍ مِثْلِ الظَّرِبِ فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهَا وَلَمْ يُصِبْهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكٍ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو تین سو آدمیوں کا امیر مقرر کر کے ساحلِ سمندر کی جانب روانہ کیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی ان میں شامل تھا، جب ہم نے کچھ سفر طے کیا تو ہمارا زادِ راہ ختم ہو گیا۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے پورے لشکر کا زادِ راہ جمع کر لیا جو کھجور کی دو تھیلیاں تھیں، تو ہر دن ہماری تھوڑی تھوڑی خوراک ہوا کرتی تھی، یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گئی، پھر ہمیں روزانہ ایک کھجور ملتی تھی۔ میں نے پوچھا: کیا ایک کھجور کفایت کر جاتی تھی؟ راوی کہتے ہیں: جب زادِ راہ ختم ہو گیا تو ہم ساحلِ سمندر پر آ گئے، جہاں ٹیلے کی مانند ایک مچھلی پڑی تھی تو پورے لشکر نے اٹھارہ دن اس کو کھایا، پھر سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو سواری پر کجاوا رکھ کر اسے اس کے نیچے سے گزارا گیا جو اس کی اونچائی تک نہ پہنچ سکی۔