السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الحيتان وميتة البحر باب: مچھلیوں اور سمندری مردار کا بیان۔
حدیث نمبر: 18960
وَرَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ، فَلَمْ يَذْكُرِ السَّاحِلَ وَقَالَ: وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ ثُمَّ نَظَرَ أَطْوَلَ رَجُلٍ وَأَعْظَمَ جَمَلٍ فِي الْجَيْشِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ الْجَمَلَ ثُمَّ يَمُرَّ تَحْتَهُ فَفَعَلَ فَمَرَّ تَحْتَهُ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ " قُلْنَا: لَا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
حمیدی، سفیان سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ساحل کا ذکر نہیں کیا، فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لے کر کھڑی کی۔ پھر ایک لمبے آدمی اور لشکر میں بڑے اونٹ کا انتخاب کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ سوار ہو کے اس کے نیچے سے گزر جائے تو وہ گزر گیا۔ ہم نے نبی ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ موجود ہے؟“ ہم نے کہا: اب تو کچھ موجود نہیں۔