کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سرزمینِ حجاز اور جزیرہ نما عرب کی تفسیر کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ مَا بَيْنَ الْوَادِي إِلَى أَقْصَى الْيَمَنِ إِلَى تُخُومِ الْعِرَاقِ إِلَى الْبَحْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جزیرۂ عرب وادِی القُرٰی کے درمیان سے لے کر یمن کے کنارے تک اور عراق کی سرحد سے سمندر تک ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ مَا بَيْنَ حُفَرِ أَبِي مُوسَى إِلَى أَقْصَى الْيَمَنِ فِي الطُّولِ، وَأَمَّا الْعَرْضُ فَمَا بَيْنَ رَمْلِ يَبْرِينَ إِلَى مُنْقَطَعِ السَّمَاوَةِ. قَالَ: وَقَالَ الْأَصْمَعِيُّ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ مِنْ أَقْصَى عَدَنِ أَبْيَنَ إِلَى رِيفِ الْعِرَاقِ فِي الطُّولِ، وَأَمَّا الْعَرْضُ فَمِنْ جُدَّةَ وَمَا وَالِاهَا مِنْ سَاحِلِ الْبَحْرِ إِلَى أَطْرَافِ الشَّامِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جزیرہ عرب ابو موسیٰ کے کنویں سے لے کر لمبائی میں یمن تک اور چوڑائی یبرین کے ریگستان سے لے کر سماوہ کے اختتام تک ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جزیرہ عرب عدن ابین کی سرحد سے عراق تک لمبائی میں اور چوڑائی جدہ سے لے کر ساحل سمندر اور شام تک ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِيَّ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ مِنْ لَدُنِ الْقَادِسِيَّةِ إِلَى لَدُنْ قَعْرِ عَدَنَ إِلَى الْبَحْرَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عبد الرحمن مقری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جزیرہ عرب قادسیہ سے قعر عدن اور بحرین تک ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكَ أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى أَهْلَ نَجْرَانَ وَلَمْ يُجْلَوْا مِنْ تَيْمَاءَ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ بِلَادِ الْعَرَبِ، فَأَمَّا الْوَادِي فَإِنِّي أَرَى أَنَّمَا لَا يُجْلَى مَنْ فِيهَا مِنَ الْيَهُودِ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْهَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل نجران کو جلا وطن کیا، لیکن بستی تیماء سے جلا وطن نہ کیے گئے کیونکہ یہ عرب کا شہر نہیں ہے اور رہی وادی (القریٰ) تو میرا خیال ہے کہ وہاں کے یہود کو اس لیے جلا وطن نہ کیا گیا کہ انہوں نے اسے عرب کی سرزمین نہیں سمجھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنْ سَأَلَ مَنْ يُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةَ أَنْ يُعْطِيَهَا وَيَجْرِيَ عَلَيْهِ الْحُكْمُ عَلَى أَنْ يَسْكُنَ الْحِجَازَ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ لَهُ، وَالْحِجَازُ مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ وَالْيَمَامَةُ وَمَخَالِيفُهَا كُلُّهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا أُجْلِيَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنَ الْيَمَنِ، وَقَدْ كَانَتْ بِهَا ذِمَّةٌ وَلَيْسَتِ الْيَمَنُ بِحِجَازٍ، فَلَا يُجْلِيهِمْ أَحَدٌ مِنَ الْيَمَنِ، وَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَالِحَهُمْ عَلَى مَقَامِهِمْ بِالْيَمَنِ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ جَعَلُوا الْيَمَنَ مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ وَالْجَلَاءُ وَقَعَ عَلَى أَهْلِ نَجْرَانَ، وَذِمَّةُ أَهْلِ الْحِجَازِ دُونَ ذِمَّةِ أَهْلِ الْيَمَنِ؛ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِحِجَازٍ، لَا لِأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْهَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ، وَالْجَلَاءُ فِي الْحَدِيثِ تَخْصِيصٌ، وَفِي حَدِيثِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَلِيلٌ أَوْ شِبْهُ دَلِيلٍ عَلَى مَوْضِعِ الْخُصُوصِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر جزیہ دینے والا شخص یہ مطالبہ کرے کہ وہ جزیہ ادا کرے گا اور اس پر (اسلامی) حکم جاری ہوگا اس شرط پر کہ وہ حجاز میں رہائش رکھے، تو اسے یہ حق نہیں۔ اور حجاز مکہ، مدینہ، یمامہ اور ان کے تمام اطراف و نواحی ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ کوئی ذمی شخص یمن سے جلا وطن کیا گیا ہو؛ کیونکہ ان کے ساتھ عہد تھا اور یمن کا علاقہ حجاز میں شامل نہ تھا، اس لیے کسی کو یمن سے جلا وطن نہ کیا گیا اور یمن میں رہتے ہوئے ان سے صلح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے یمن کو عرب کی سرزمین میں شمار کیا ہے، اور جلا وطنی اہل نجران پر واقع ہوئی، اور اہل یمن کو چھوڑ کر صرف اہل حجاز کے ذمیوں کو (جلا وطن کیا گیا)؛ اس لیے کہ یمن حجاز نہیں ہے، نہ اس لیے کہ وہ اسے عرب کی سرزمین نہیں سمجھتے تھے۔ اور حدیث میں جلا وطنی کا حکم خاص ہے، اور سمرہ کی ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت میں اس خاص جگہ پر دلیل یا دلیل جیسی چیز موجود ہے، واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ کوئی ذمی شخص یمن سے جلا وطن کیا گیا ہو؛ کیونکہ ان کے ساتھ عہد تھا اور یمن کا علاقہ حجاز میں شامل نہ تھا، اس لیے کسی کو یمن سے جلا وطن نہ کیا گیا اور یمن میں رہتے ہوئے ان سے صلح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے یمن کو عرب کی سرزمین میں شمار کیا ہے، اور جلا وطنی اہل نجران پر واقع ہوئی، اور اہل یمن کو چھوڑ کر صرف اہل حجاز کے ذمیوں کو (جلا وطن کیا گیا)؛ اس لیے کہ یمن حجاز نہیں ہے، نہ اس لیے کہ وہ اسے عرب کی سرزمین نہیں سمجھتے تھے۔ اور حدیث میں جلا وطنی کا حکم خاص ہے، اور سمرہ کی ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت میں اس خاص جگہ پر دلیل یا دلیل جیسی چیز موجود ہے، واللہ اعلم۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ إِلَى وَادِي الْقُرَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي فَتْحِ وَادِي الْقُرَى، قَالَ: فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي الْقُرَى أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ، وَقَسَمَ مَا أَصَابَ عَلَى أَصْحَابِهِ بِوَادِي الْقُرَى، وَتَرَكَ الْأَرْضَ وَالنَّخْلَ بِأَيْدِي يَهُودَ وَعَامَلَهُمْ عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْرَجَ يَهُودَ خَيْبَرَ وَفَدَكَ، وَلَمْ يُخْرِجْ أَهْلَ تَيْمَاءَ وَوَادِي الْقُرَى؛ لِأَنَّهُمَا دَاخِلَتَانِ فِي أَرْضِ الشَّامِ، وَنَرَى أَنَّ مَا دُونَ وَادِي الْقُرَى إِلَى الْمَدِينَةِ حِجَازٌ، وَأَنَّ مَا وَرَاءَ ذَلِكَ شَامٌ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ أَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الْوَاقِدِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وادیِ قریٰ کی جانب گئے۔ اس نے وادیِ قریٰ کی فتح کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ آپ ﷺ نے وادیِ قریٰ میں چار دن قیام کیا۔ وادیِ القریٰ سے جو مال غنیمت حاصل ہوا تھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم فرمایا اور زمین اور کھجوروں کے باغات پر یہود کو عامل بنا دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں خیبر و فدک کے یہود کو جلاوطن کر دیا، لیکن تیماء اور وادیِ القریٰ کے لوگوں کو جلاوطن نہ کیا؛ کیونکہ یہ دونوں شام کی سرزمین میں شامل تھے اور ہمارے خیال میں وادیِ القریٰ کی اس طرف والی سرزمین حجاز میں شامل ہے جبکہ دوسری جانب والی شام میں داخل ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے یہ آخری کلام واقدی کا قول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ يَعْنِي النَّيْسَابُورِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ الرَّازِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ يَحْيَى الْمَدَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ الْمَدِينَةُ وَمَكَّةُ وَالْيَمَنُ، فَأَمَّا مِصْرُ فَمِنْ بِلَادِ الْمَغْرِبِ، وَالشَّامُ مِنْ بِلَادِ الرُّومِ، وَالْعِرَاقُ مِنْ بِلَادْ فَارِسَ.
حافظ ثناء اللہ
مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جزیرۂ عرب مدینہ، مکہ اور یمن ہے، اور مصر مغرب کے ممالک سے ہے، اور شام ملکِ روم سے ہے اور عراق فارس کے ملک سے ہے۔