أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا الْمَرَّارُ بْنُ حَمُّويَهِ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْكِنَانِيُّ، قَالَ مُوسَى: وَهُوَ أَبُو غَسَّانَ الْكِنَانِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا فُدِعْتُ بِخَيْبَرَ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطِيبًا فِي النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَمْوَالِهَا وَقَالَ: " نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ "، وَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى مَالِهِ هُنَاكَ فَعُدِيَ عَلَيْهِ فِي اللَّيْلِ فَفُدِعَتْ يَدَاهُ وَلَيْسَ لَنَا عَدُوٌّ هُنَاكَ غَيْرَهُمْ وَهُمْ تُهْمَتُنَا، وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَهُمْ. فَلَمَّا أَجْمَعَ عَلَى ذَلِكَ أَتَاهُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الْحُقَيْقِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ وَعَامَلَنَا عَلَى الْأَمْوَالِ وَشَرَطَ ذَلِكَ لَنَا؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَظَنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو بِكَ قَلُوصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ ". فَأَجْلَاهُمْ وَأَعْطَاهُمْ قِيمَةَ مَالِهِمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ وَهُوَ مَرَّارُ بْنُ حَمُّويَهِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب خیبر میں میرا جوڑ ٹوٹ گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کو ان کے مالوں پر عامل بنایا تھا اور فرمایا: ”میں نے تمہیں برقرار رکھا جب تک اللہ نے تمہیں برقرار رکھا۔“ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے مال لے کر نکلے تو ان پر رات کے وقت زیادتی کی گئی، جس کی بنا پر ان کا جوڑ ٹوٹ گیا، ان کے علاوہ ہمارا کوئی دشمن بھی نہ تھا اور وہی ہمارے ملزم تھے۔ میں نے ان کو جلا وطن ہوتے ہوئے دیکھا، جب وہ اس بات پر جمع ہو گئے تو بنو ابوالحقیق کا ایک فرد آیا، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے ہمیں جلا وطن کر دیا ہے، حالانکہ محمد ﷺ نے ہمیں اپنے مالوں پر عامل بنایا تھا اور ہمیں یہاں برقرار رکھا تھا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھول گیا ہوں؟ تمہاری حالت کیا ہوگی، جب تمہیں خیبر سے نکالا جائے گا اور تیری جوان اونٹنی تجھے یکے بعد دیگرے کئی راتیں چلے گی۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا وطن کیا اور ان کے پھلوں کی قیمت کے بدلے مال، اونٹ، سامان پالان اور رسیاں وغیرہ دے دیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ⦗٣٤٩⦘ أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا ابْنُ بَزِيعٍ، وَأَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَا: ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتِ الْأَرْضُ إِذْ أَظْهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكُفُّوا الْعَمَلَ وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُقِرُّكُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا، فَأُقِرُّوا بِهَا، وَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہود و نصاریٰ کو حجاز کی زمین سے جلا وطن کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فتح خیبر کے بعد یہود کو جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا تھا اور فتح کے بعد زمین اللہ و رسول اور مومنوں کی ہونی تھی، تو یہود نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آدھے پھلوں کے عوض انہیں زمین پر کام کرنے کے لیے مقرر کر دیا جائے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک ہم چاہیں گے برقرار رکھیں گے۔“ آپ نے برقرار رکھا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں انہیں تیماء اور اریحا کی جانب جلا وطن کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ ثُمَّ بَكَى ثُمَّ قَالَ: اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا "، فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالَ: " ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ "، وَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ فَقَالَ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوٍ مِمَّا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ، وَالثَّالِثَةَ نُسِّيتُهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جمعرات کا دن، جمعرات کا دن کیا ہے؟“ پھر وہ روئے اور فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری بڑھ گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی کاغذ لاؤ میں تمہیں تحریر کر دوں، پھر تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔“ انھوں نے اس میں جھگڑا کیا حالانکہ نبی ﷺ کے پاس جھگڑا کرنا درست نہیں ہوتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ اس چیز سے بہتر ہے جس کی جانب تم مجھے بلاتے ہو۔“ آپ ﷺ نے ان چیزوں کا حکم دیا کہ: ”مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور ان سے اتنا جزیہ لو جتنا میں لیتا تھا“ اور تیسری چیز میں بھلا دیا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي، بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، قَالَا: ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَئِنْ عِشْتُ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا أَتْرُكَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ رَوْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا، میں صرف مسلمانوں کو رہنے دوں گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ⦗٣٥٠⦘ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَخْرِجُوا يَهُودَ الْحِجَازِ وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شَرَّ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَهُمْ مَسَاجِدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سب سے آخری جو کلام فرمائی وہ یہ تھی: ”یہودیوں کو حجاز سے اور اہل نجران کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور جان لو! بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّهُ كَانَ مِنْ آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ: " قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، لَا يَبْقَيَنَّ دِينَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری کلام یہ تھا: ”اللہ یہودیوں اور عیسائیوں کو برباد کرے جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے اور عرب میں دو دین باقی نہ رہیں گے۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ". قَالَ مَالِكٌ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَفَحَصَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَاهُ الثَّلَجُ وَالْيَقِينُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ "، فَأَجْلَى يَهُودَ خَيْبَرَ. قَالَ مَالِكٌ: قَدْ أَجْلَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَهُودَ نَجْرَانَ وَفَدَكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھے نہ ہوں گے۔“ (ب) حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جزیرہ عرب میں دو دین جمع نہ ہوں گے۔“ آپ نے خیبر کے یہود کو جلا وطن کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نجران وفدک کے یہود کو جلا وطن کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَكُونُ قِبْلَتَانِ فِي بَلَدٍ وَاحِدٍ "، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ بِإِسْنَادِهِ: " لَا يَجْتَمِعُ قِبْلَتَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ أَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ، ثُمَّ يَهُودَ الْمَدِينَةِ، وَرُوِّينَاهُ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو دینوں والے ایک شہر میں نہیں رہ سکتے۔“
(ب) قابوس بن ابی ظبیان اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ جزیرہ عرب میں دو قبلہ والے جمع نہیں ہو سکتے۔
شیخ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر اور مدینہ کے یہود کو جلا وطن کر دیا۔
(ب) قابوس بن ابی ظبیان اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ جزیرہ عرب میں دو قبلہ والے جمع نہیں ہو سکتے۔
شیخ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر اور مدینہ کے یہود کو جلا وطن کر دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو السَّرِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ بِالطَّابِرَانِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ⦗٣٥١⦘ وَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ، بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، وَبَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَمَنْ سِوَاهُمْ مِنَ الْكُفَّارِ لَا يُقَرُّونَ فِيهَا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ، وَلَا أَدْرِي أَكَانَ يُفْعَلُ ذَلِكَ بِهِمْ أَمْ لَا.
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر و قریظہ کے یہودیوں نے نبی ﷺ سے جنگ کی تو رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا جبکہ بنو قریظہ کو برقرار رکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے یہود کو جلا وطن کر دیا یعنی بنو قینقاع جو عبداللہ بن سلام کی قوم تھی اور بنو حارثہ کو بھی جلا وطن کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں یہود و نصاریٰ اور کوئی بھی کافر تین دن سے زیادہ مدینہ میں نہ رہا۔ مجھے معلوم نہیں انہوں نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا یا نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخُولَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: أَخْبَرَكَ أَبُوكَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ "، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا إِلَى بَيْتِ الْمِدْرَاسِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ". قَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَلِكَ أُرِيدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ". قَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَلِكَ أُرِيدُ "، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ وَقَالَ: " اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”یہود کی جانب چلو۔“ ہم آپ ﷺ کے ساتھ بیت المدارس تک آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلایا اور فرمایا: ”اے یہود! مسلمان ہو جاؤ، تم سلامتی والے بن جاؤ گے۔“ انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے دعوت پہنچا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی چاہتا ہوں کہ تم مسلمان بن جاؤ، سلامتی والے بن جاؤ گے۔“ انہوں نے دوبارہ کہا: آپ نے دعوت پہنچا دی ہے۔ آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”یہی میرا ارادہ ہے۔“ انہوں نے تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زمین اللہ اور رسول کی ہے، میں تمہیں یہاں سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں۔ تم اپنا مال فروخت کر دو، اور جان لو کہ زمین اللہ اور رسول کی ہے۔“