السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في تفسير أرض الحجاز وجزيرة العرب باب: سرزمینِ حجاز اور جزیرہ نما عرب کی تفسیر کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكَ أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى أَهْلَ نَجْرَانَ وَلَمْ يُجْلَوْا مِنْ تَيْمَاءَ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ بِلَادِ الْعَرَبِ، فَأَمَّا الْوَادِي فَإِنِّي أَرَى أَنَّمَا لَا يُجْلَى مَنْ فِيهَا مِنَ الْيَهُودِ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْهَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ.حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل نجران کو جلا وطن کیا، لیکن بستی تیماء سے جلا وطن نہ کیے گئے کیونکہ یہ عرب کا شہر نہیں ہے اور رہی وادی (القریٰ) تو میرا خیال ہے کہ وہاں کے یہود کو اس لیے جلا وطن نہ کیا گیا کہ انہوں نے اسے عرب کی سرزمین نہیں سمجھا۔