السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في تفسير أرض الحجاز وجزيرة العرب باب: سرزمینِ حجاز اور جزیرہ نما عرب کی تفسیر کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنْ سَأَلَ مَنْ يُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةَ أَنْ يُعْطِيَهَا وَيَجْرِيَ عَلَيْهِ الْحُكْمُ عَلَى أَنْ يَسْكُنَ الْحِجَازَ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ لَهُ، وَالْحِجَازُ مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ وَالْيَمَامَةُ وَمَخَالِيفُهَا كُلُّهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا أُجْلِيَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنَ الْيَمَنِ، وَقَدْ كَانَتْ بِهَا ذِمَّةٌ وَلَيْسَتِ الْيَمَنُ بِحِجَازٍ، فَلَا يُجْلِيهِمْ أَحَدٌ مِنَ الْيَمَنِ، وَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَالِحَهُمْ عَلَى مَقَامِهِمْ بِالْيَمَنِ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ جَعَلُوا الْيَمَنَ مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ وَالْجَلَاءُ وَقَعَ عَلَى أَهْلِ نَجْرَانَ، وَذِمَّةُ أَهْلِ الْحِجَازِ دُونَ ذِمَّةِ أَهْلِ الْيَمَنِ؛ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِحِجَازٍ، لَا لِأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْهَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ، وَالْجَلَاءُ فِي الْحَدِيثِ تَخْصِيصٌ، وَفِي حَدِيثِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَلِيلٌ أَوْ شِبْهُ دَلِيلٍ عَلَى مَوْضِعِ الْخُصُوصِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ان سے سوال ہو کہ جزیہ کن سے لیا جائے گا اور حجاز، مکہ، مدینہ، یمامہ اور ان کی مخالف اطراف مکمل ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ کوئی ذمی شخص یمن سے جلا وطن کیا گیا ہو؛ کیونکہ ان کے ساتھ عہد تھا اور یمن کا علاقہ حجاز میں شامل نہ تھا، اس لیے کسی کو یمن سے جلا وطن نہ کیا گیا اور یمن میں رہتے ہوئے ان سے صلح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یمن عرب کی سرزمین ہے، اہل نجران کو اس سے جلا وطن کیا گیا اور اہل حجاز کا عہد تھا نہ کہ اہل یمن کا؛ کیونکہ یہ حجاز نہ تھا اور نہ ہی ان کے خیال میں یہ عرب کی سرزمین تھی۔ حدیث میں تخصیص ہے۔ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مخصوص جگہ کے لیے دلیل یا شبہ دلیل کا ہونا ضروری ہے۔