السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: ما جاء في تفسير أرض الحجاز وجزيرة العرب باب: سرزمینِ حجاز اور جزیرہ نما عرب کی تفسیر کے متعلق کیا مروی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ إِلَى وَادِي الْقُرَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي فَتْحِ وَادِي الْقُرَى، قَالَ: فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي الْقُرَى أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ، وَقَسَمَ مَا أَصَابَ عَلَى أَصْحَابِهِ بِوَادِي الْقُرَى، وَتَرَكَ الْأَرْضَ وَالنَّخْلَ بِأَيْدِي يَهُودَ وَعَامَلَهُمْ عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْرَجَ يَهُودَ خَيْبَرَ وَفَدَكَ، وَلَمْ يُخْرِجْ أَهْلَ تَيْمَاءَ وَوَادِي الْقُرَى؛ لِأَنَّهُمَا دَاخِلَتَانِ فِي أَرْضِ الشَّامِ، وَنَرَى أَنَّ مَا دُونَ وَادِي الْقُرَى إِلَى الْمَدِينَةِ حِجَازٌ، وَأَنَّ مَا وَرَاءَ ذَلِكَ شَامٌ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ أَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الْوَاقِدِيِّ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وادیِ قریٰ کی جانب گئے۔ اس نے وادیِ قریٰ کی فتح کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ آپ ﷺ نے وادیِ قریٰ میں چار قیام کیے۔ وادیِ القریٰ سے جو مال غنیمت حاصل ہوا تھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم فرمایا اور زمین اور کھجوروں کے باغات پر یہود کو عامل بنا دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں خیبر و فدک کے یہود کو جلاوطن کر دیا، لیکن تیماء اور وادیِ القریٰ کے لوگوں کو جلاوطن نہ کیا؛ کیونکہ یہ دونوں شام کی سرزمین میں شامل تھے اور ہمارے خیال میں وادیِ القریٰ کی اس طرف والی سرزمین حجاز میں شامل ہے جبکہ دوسری جانب والی شام میں داخل ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہ آخری کلام اور واقدی کا قول ہے۔