أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلَهُ ثَوْبَ مَعَافِرَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن روانہ کیا اور فرمایا: ”گائے والوں سے ہر تیس گایوں پر ایک سال کا بچہ وصول کیا جائے اور چالیس گایوں پر دو سال کا بچہ وصول کیا جائے اور ہر بالغ کے ذمہ ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ، يَعْنِي مُحْتَلِمًا، دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِيِّ ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ..
حافظ ثناء اللہ
ابو وائل سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کی جانب روانہ کیا تو فرمایا: ”گائے والوں سے ہر تیس پر ایک سالہ نر یا مادہ وصول کرنا اور ہر چالیس گائے پر دو دانت والا اور ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر یمن کے بنے ہوئے معافری کپڑے وصول کرنا۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ بَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِنْكَارًا شَدِيدًا. قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا الْمُنْكَرُ رِوَايَةُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، فَأَمَّا رِوَايَةُ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، فَإِنَّهَا مَحْفُوظَةٌ قَدْ رَوَاهَا عَنِ الْأَعْمَشِ جَمَاعَةٌ، مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَمَعْمَرٌ، وَجَرِيرٌ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ مُعَاذٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ، ⦗٣٢٥⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فَالصَّوَابُ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
مسروق سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی ﷺ سے اسی کی مثل نقل فرماتے ہیں۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بعض نسخوں میں فرمایا: یہ حدیث منکر ہے، مجھے امام احمد رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اس حدیث کا سختی سے انکار کرتے تھے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: منکر تو صرف ابومعاویہ کی اعمش سے، ان کی ابراہیم سے، ان کی مسروق سے اور ان کی معاذ سے روایت ہے، رہی اعمش کی ابووائل سے اور ان کی مسروق سے روایت تو وہ محفوظ ہے، اسے اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے، جن میں سفیان ثوری، شعبہ، معمر، جریر، ابوعوانہ، یحییٰ بن سعید اور حفص بن غیاث شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نے ”معاذ سے“ کہا اور بعض نے کہا: ”جب نبی ﷺ نے معاذ کو یمن بھیجا“ یا اس کے ہم معنی الفاظ۔ اور اعمش کی ابراہیم سے روایت کے بارے میں درست بات وہی ہے جو ذکر ہوئی۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بعض نسخوں میں فرمایا: یہ حدیث منکر ہے، مجھے امام احمد رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اس حدیث کا سختی سے انکار کرتے تھے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: منکر تو صرف ابومعاویہ کی اعمش سے، ان کی ابراہیم سے، ان کی مسروق سے اور ان کی معاذ سے روایت ہے، رہی اعمش کی ابووائل سے اور ان کی مسروق سے روایت تو وہ محفوظ ہے، اسے اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے، جن میں سفیان ثوری، شعبہ، معمر، جریر، ابوعوانہ، یحییٰ بن سعید اور حفص بن غیاث شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نے ”معاذ سے“ کہا اور بعض نے کہا: ”جب نبی ﷺ نے معاذ کو یمن بھیجا“ یا اس کے ہم معنی الفاظ۔ اور اعمش کی ابراہیم سے روایت کے بارے میں درست بات وہی ہے جو ذکر ہوئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: قَالَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ثَنِيَّةً، وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ. هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ حَدِيثُ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَحَدِيثُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مُنْقَطِعٌ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ مَسْرُوقٍ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا اور حکم فرمایا: ”چالیس گائے پر ایک ثنیہ اور ہر تیس گائے پر ایک تبیعہ، نر یا مادہ، اور ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا وصول کرنا۔“
یہی محفوظ ہے، یعنی اعمش کی ابووائل شقیق بن سلمہ سے اور ان کی مسروق سے روایت، اور اعمش کی ابراہیم سے روایت منقطع ہے، اس میں مسروق کا ذکر نہیں ہے۔
یہی محفوظ ہے، یعنی اعمش کی ابووائل شقیق بن سلمہ سے اور ان کی مسروق سے روایت، اور اعمش کی ابراہیم سے روایت منقطع ہے، اس میں مسروق کا ذکر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ أَنَّ " عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ أَوْ قِيمَتَهُ مِنَ الْمَعَافِرِ "، يَعْنِي أَهْلَ الذِّمَّةِ مِنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یمن والوں کو خط لکھا کہ: ”تمہارے ہر بالغ پر سال میں ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا ہے یعنی ذمی لوگوں پر۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، وَهِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، بِإِسْنَادٍ لَا أَحْفَظُهُ غَيْرَ أَنَّهُ حَسَنٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ، فَقُلْتُ لِمُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ فَإِنَّهُ يُقَالُ: وَعَلَى النِّسَاءِ أَيْضًا، فَقَالَ: لَيْسَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنَ النِّسَاءِ ثَابِتًا عِنْدَنَا.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن یوسف اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یمن کے ذمی لوگوں پر سال میں ایک دینار مقرر کیا۔ کہتے ہیں: میں نے مطرف بن مازن سے کہا: کیا عورتوں پر بھی؟ کہتے ہیں: نبی ﷺ نے عورتوں سے وصول کیا ہو، ہمارے نزدیک یہ ثابت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْيَمَنِ " عَلَى كُلِّ حَالِمٍ أَوْ حَالِمَةٍ دِينَارًا أَوْ قِيمَتَهُ، وَلَا يُفْتَنُ يَهُودِيٌّ عَنْ يَهُودِيَّتِهِ ". قَالَ يَحْيَى: وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ عَلَى النِّسَاءِ جِزْيَةً إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ " حَالِمَةٍ " وَلَا فِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُعَاذٍ، إِلَّا شَيْئًا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، وَمَعْمَرٌ إِذَا رَوَى عَنْ غَيْرِ الزُّهْرِيِّ يَغْلَطُ كَثِيرًا وَاللهُ أَعْلَمُ، ⦗٣٢٦⦘ وَقَدْ حَمَلَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ إِنْ كَانَ مَحْفُوظًا عَلَى أَخْذِهَا مِنْهَا إِذَا طَابَتْ بِهَا نَفْسًا. وَرَوَاهُ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْحَكَمِ مَوْصُولًا وَأَبُو شَيْبَةَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن میں خط لکھا کہ: ”ہر مرد و عورت پر ایک دینار یا اس کی قیمت ہے اور کسی یہودی کو یہودیت کی وجہ سے آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔“
یہ روایت منقطع ہے۔ اسے ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان نے حکم سے موصولاً روایت کیا ہے اور ابوشیبہ ضعیف ہے۔
یہ روایت منقطع ہے۔ اسے ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان نے حکم سے موصولاً روایت کیا ہے اور ابوشیبہ ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، أنبأ حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ " مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَهُ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْهِمْ، وَمَنْ أَقَامَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ أَوْ نَصْرَانِيَّةٍ فَعَلَى كُلِّ حَالِمٍ دِينَارٌ أَوْ عِدْلُهُ مِنَ الْمَعَافِرِ، ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى، حُرًّا أَوْ مَمْلُوكًا، وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْإِبِلِ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ سُقِيَ فَيْحًا الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ نِصْفُ الْعُشْرِ ". هَذَا لَا يَثْبُتُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف خط تحریر کیا کہ ”جس نے اسلام قبول کر لیا تو اس کے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں اور اس پر وہی ذمہ داری عائد ہو گی جو دوسرے مسلمانوں پر ہے، اور جو یہودی یا عیسائی ہو ان کے بالغ پر ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا ہے، مذکر ہو یا مؤنث، آزاد ہو یا غلام، اور ہر تیس گائے میں ایک «تَبِیعَة» (نر یا مادہ) اور ہر چالیس گائے پر ایک «مُسِنَّة» اور ہر چالیس اونٹوں پر ایک «بِنْتَ لَبُونٍ» (دو سال مکمل والی، تیسرے سال میں داخل ہو) ہے، اور وہ کھیتی جو بارش سے سیراب ہو اس میں دسواں حصہ ہے اور جس کھیتی کو ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کیا جائے اس کا بیسواں حصہ ہے“۔
یہ روایت اس سند کے علاوہ کسی اور سند سے ثابت نہیں ہے۔
یہ روایت اس سند کے علاوہ کسی اور سند سے ثابت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: فَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ خَالِدٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، وَعَدَدًا مِنْ عُلَمَاءِ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَكُلُّهُمْ حَكَى لِي عَنْ عَدَدٍ مَضَوْا قَبْلَهُمْ، يَحْكُونَ عَنْ عَدَدٍ مَضَوْا قَبْلَهُمْ، كُلُّهُمْ ثِقَةٌ: أَنَّ صُلْحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ كَانَ لِأَهْلِ ذِمَّةِ الْيَمَنِ عَلَى دِينَارٍ كُلَّ سَنَةٍ، وَلَا يُثْبِتُونَ أَنَّ النِّسَاءَ كُنَّ فِيمَنْ يُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ، وَقَالَ عَامَّتُهُمْ: وَلَمْ تُؤْخَذْ مِنْ زُرُوعِهِمْ وَقَدْ كَانَتْ لَهُمْ زُرُوعٌ، وَلَا مِنْ مَوَاشِيهِمْ شَيْئًا عَلِمْنَاهُ، وَقَالَ لِي بَعْضُهُمْ: قَدْ جَاءَنَا بَعْضُ الْوُلَاةِ فَخَمَسَ زُرُوعَهُمْ أَوْ أَرَادَهَا فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَكُلُّ مَنْ وَصَفْتُ أَخْبَرَنِي أَنَّ عَامَّةَ ذِمَّةِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ حِمْيَرَ. قَالَ: وَسَأَلْتُ عَدَدًا كَثِيرًا مِنْ ذِمَّةِ أَهْلِ الْيَمَنِ مُتَفَرِّقِينَ فِي بُلْدَانِ الْيَمَنِ فَكُلُّهُمْ أَثْبَتَ لِي لَا يَخْتَلِفُ قَوْلُهُمْ أَنَّ مُعَاذًا أَخَذَ مِنْهُمْ دِينَارًا عَنْ كُلِّ بَالِغٍ مِنْهُمْ، وَسَمَّوَا الْبَالِغَ حَالِمًا قَالُوا: وَكَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ مُعَاذٍ " أَنَّ عَلَى كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن خالد، عبداللہ بن عمرو بن مسلم اور اہل یمن کے کئی علماء سے پوچھا، ان سب نے اپنے سے پہلے گزرے ہوئے کئی لوگوں سے اور انہوں نے اپنے سے پہلے گزرے ہوئے کئی لوگوں سے نقل کیا، جو سب ثقہ تھے، کہ نبی ﷺ کی صلح یمن کے ذمی لوگوں کے ساتھ سال میں ایک دینار پر تھی اور وہ یہ ثابت نہیں کرتے کہ عورتیں ان لوگوں میں شامل تھیں جن سے جزیہ لیا جاتا تھا۔ ان میں سے اکثر نے کہا: ان کی کھیتیوں سے کچھ نہیں لیا گیا حالانکہ ان کی کھیتیاں تھیں، اور نہ ہی ہمارے علم کے مطابق ان کے مویشیوں سے کچھ لیا گیا۔ ان میں سے بعض نے مجھ سے کہا: ہمارے پاس ایک حاکم آیا اور اس نے ان کی کھیتیوں سے پانچواں حصہ لیا یا لینے کا ارادہ کیا تو اس پر انکار کیا گیا۔ جن جن کا میں نے ذکر کیا، سب نے مجھے بتایا کہ اہل یمن کے اکثر ذمی حمیر قبیلہ سے تھے۔ فرماتے ہیں: اور میں نے یمن کے مختلف شہروں میں بکھرے ہوئے اہل یمن کے بہت سے ذمی افراد سے پوچھا، سب نے بلا اختلاف مجھے یہی بتایا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ان کے ہر بالغ سے ایک دینار وصول کیا اور وہ بالغ کو «حَالِم» کہتے تھے۔ انہوں نے کہا: اور نبی ﷺ کا جو خط سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اس میں درج تھا کہ ”ہر بالغ پر ایک دینار ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ الْجِزْيَةَ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ دِينَارًا دِينَارًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن والوں کے ہر بالغ پر ایک ایک دینار جزیہ مقرر فرمایا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ: هَذَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا الَّذِي كَتَبَهُ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَذَكَرَهُ وَفِي آخِرِهِ " وَأَنَّهُ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ يَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ إِسْلَامًا خَالِصًا مِنْ نَفْسِهِ فَدَانَ دِينَ الْإِسْلَامِ فَإِنَّهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، لَهُ مَا لَهُمْ، وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْهِمْ، وَمَنْ كَانَ عَلَى نَصْرَانِيَّةٍ أَوْ يَهُودِيَّةٍ فَإِنَّهُ لَا يُفْتَنُ عَنْهَا، وَعَلَى كُلِّ حَالِمٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ دِينَارٌ وَافٍ، أَوْ عَرْضُهُ مِنَ الثِّيَابِ، فَمَنْ أَدَّى ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُ ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَمَنْ مَنَعَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ عَدُوُّ اللهِ وَرَسُولِهِ وَالْمُؤْمِنِينَ ". هَذَا مُنْقَطِعٌ وَلَيْسَ فِي الرِّوَايَةِ الْمَوْصُولَةِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو خط عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھا جس وقت انہیں یمن روانہ کیا، اس کے آخر میں ہے کہ: ”جو یہودی یا عیسائی دینِ اسلام کو خالص نیت سے قبول کرے تو اس کے لیے مومنوں والے حقوق ہوں گے اور اس پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو مسلمانوں پر ہیں، اور جو عیسائیت یا یہودیت پر قائم رہے اس کو آزمائش میں مبتلا نہ کیا جائے گا اور ہر بالغ مذکر و مؤنث یا آزاد و غلام پر ایک دینار یا اس کے عوض کپڑا ہے۔ جس نے یہ ادا کر دیا اس کے لیے اللہ اور رسول کا ذمہ ہے اور جس نے اسے ادا نہ کیا وہ اللہ، رسول اور مومنوں کا دشمن ہے۔“
یہ روایت منقطع ہے اور یہ (الفاظ) موصول روایت میں نہیں ہیں۔
یہ روایت منقطع ہے اور یہ (الفاظ) موصول روایت میں نہیں ہیں۔
وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُنْقَطِعًا، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ حَزْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو اسود رحمہ اللہ، حضرت عروہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”یہ خط محمد ﷺ کی جانب سے اہل یمن کے نام ہے،“ پھر ابن حزم رضی اللہ عنہ والی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
یہ روایت ایک اور سند سے منقطع مروی ہے۔
یہ روایت ایک اور سند سے منقطع مروی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْمَعَافِرِيُّ، ثنا أَبُو يَزَنَ الْحِمْيَرِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُفَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُفَيْرِ بْنِ زُرْعَةَ بْنِ سَيْفِ بْنِ ذِي يَزَنَ، حَدَّثَنِي عَمِّي أَحْمَدُ بْنُ حُبَيْشِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي أَبِي عُفَيْرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي أَبِي عُفَيْرُ، حَدَّثَنِي أَبِي زُرْعَةُ بْنُ سَيْفِ بْنِ ذِي يَزَنَ قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا هَذَا نُسْخَتُهُ، فَذَكَرَهَا وَفِيهَا " وَمَنْ يَكُنْ عَلَى يَهُودِيَّتِهِ أَوْ عَلَى نَصْرَانِيَّتِهِ فَإِنَّهُ لَا يُفْتَنُ عَنْهَا، وَعَلَيْهِ الْجِزْيَةُ عَلَى كُلِّ حَالِمٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ دِينَارٌ أَوْ قِيمَتُهُ مِنَ الْمَعَافِرِ ". وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ فِي رُوَاتِهَا مَنْ يُجْهَلُ، وَلَمْ يَثْبُتْ بِمِثْلِهَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثٌ، فَالَّذِي يُوَافِقُ مِنْ أَلْفَاظِهَا وَأَلْفَاظِ مَا قَبْلَهَا رِوَايَةَ مَسْرُوقٍ مَقُولٌ بِهِ، وَالَّذِي يَزِيدُ عَلَيْهَا وَجَبَ التَّوَقُّفُ فِيهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
زرعہ بن سیف بن ذی یزن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے خط لکھا، جس میں یہ تھا کہ ”جو یہودیت یا عیسائیت پر قائم رہے، اس کو تبدیل نہ کیا جائے گا، بلکہ ان پر جزیہ ہے، ہر بالغ مذکر و مؤنث، آزاد یا غلام پر ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا ہے۔“
اس روایت کے راویوں میں مجہول لوگ ہیں اور اہل علم کے نزدیک اس جیسی سند سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہوتی، لہٰذا اس کے اور اس سے پہلے والی روایات کے جو الفاظ مسروق کی روایت کے موافق ہیں ان پر عمل کیا جائے گا اور جو اس سے زائد ہیں ان میں توقف واجب ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
اس روایت کے راویوں میں مجہول لوگ ہیں اور اہل علم کے نزدیک اس جیسی سند سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہوتی، لہٰذا اس کے اور اس سے پہلے والی روایات کے جو الفاظ مسروق کی روایت کے موافق ہیں ان پر عمل کیا جائے گا اور جو اس سے زائد ہیں ان میں توقف واجب ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَصَارَى بِمَكَّةَ دِينَارًا لِكُلِّ سَنَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوحویرث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں عیسائیوں پر سال میں ایک دینار مقرر فرمایا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى نَصْرَانِيٍّ بِمَكَّةَ يُقَالُ لَهُ مَوْهَبٌ دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى نَصَارَى أَيْلَةَ ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ كُلَّ سَنَةٍ، وَأَنْ يُضَيِّفُوا مَنْ مَرَّ بِهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثًا، وَأَنْ لَا يَغُشُّوا مُسْلِمًا..
حافظ ثناء اللہ
ابوحویرث فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مکہ کے نصرانی پر (جس کو موہب کہا جاتا تھا) سال میں ایک دینار مقرر فرمایا اور نبی ﷺ نے ایلہ کے عیسائیوں پر 300 دینار سال میں مقرر کیے، ان کے پاس سے گزرنے والے مسلمانوں کی ”تین دن تک مہمانی کرنا“ مقرر فرمایا اور ”وہ کسی مسلمان کو دھوکا نہ دیں گے۔“
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا ثَلَاثَمِائَةٍ، فَضَرَبَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ كُلَّ سَنَةٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ صَالَحَ أَهْلَ نَجْرَانَ عَلَى حُلَلٍ يُؤَدُّونَهَا إِلَيْهِ، فَدَلَّ صُلْحُهُ إِيَّاهُمْ عَلَى غَيْرِ الدَّنَانِيرِ عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ مَا صُولِحُوا عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ وہ تین سو افراد تھے تو نبی ﷺ نے ان پر سال میں تین سو دینار مقرر فرمائے۔ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے اہلِ نجران سے جوڑوں (حُلّوں) پر صلح کی جو وہ آپ کو ادا کرتے تھے، تو دیناروں کے علاوہ پر ان سے صلح کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز پر وہ صلح کر لیں جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ نَجْرَانَ عَلَى أَلْفَيْ حُلَّةٍ، النِّصْفُ فِي صَفَرٍ، وَالنِّصْفُ فِي رَجَبٍ، يُؤَدُّونَهَا إِلَى الْمُسْلِمِينَ، وَعَارِيَةٍ ثَلَاثِينَ دِرْعًا، وَثَلَاثِينَ فَرَسًا، وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا، وَثَلَاثِينَ مِنْ كُلِّ صِنْفٍ مِنْ أَصْنَافِ السِّلَاحِ يَغْزُونَ بِهَا، الْمُسْلِمُونَ ضَامِنُونَ لَهَا حَتَّى يَرُدُّوهَا عَلَيْهِمْ إِنْ كَانَ بِالْيَمَنِ كَيْدٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران سے دو ہزار سوٹوں کے عوض صلح کی۔ آدھے صفر اور آدھے رجب میں وہ مسلمانوں کو ادا کریں گے اور بطورِ عاریت تیس زرہیں، تیس گھوڑے، تیس اونٹ اور ہر قسم کے اسلحہ میں سے تیس تیس جو جنگ میں استعمال ہوتا ہے، اور مسلمان ان کے ضامن ہیں یہاں تک کہ وہ ان کو واپس کر دیں، (یہ عاریت تب ہے) اگر یمن میں کوئی جنگ یا سازش ہو۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَمَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ يَذْكُرُ أَنَّ قِيمَةَ مَا أُخِذَ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ أَكْثَرُ مِنْ دِينَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کے اہل علم اور اہل نجران کے ذمی لوگوں سے سنا کہ ان کے ہر ایک شخص سے ایک دینار کی قیمت سے زیادہ وصول کیا گیا۔