أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، أنبأ حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ " مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَهُ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْهِمْ، وَمَنْ أَقَامَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ أَوْ نَصْرَانِيَّةٍ فَعَلَى كُلِّ حَالِمٍ دِينَارٌ أَوْ عِدْلُهُ مِنَ الْمَعَافِرِ، ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى، حُرًّا أَوْ مَمْلُوكًا، وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْإِبِلِ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ سُقِيَ فَيْحًا الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ نِصْفُ الْعُشْرِ ". هَذَا لَا يَثْبُتُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف خط تحریر کیا کہ ”جس نے اسلام قبول کر لیا تو اس کے وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں اور اس پر وہی ذمہ داری عائد ہو گی جو دوسرے مسلمانوں پر ہے، اور جو یہودی یا عیسائی ہو ان کے بالغ پر ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا ہے، مذکر ہو یا مؤنث، آزاد ہو یا غلام، اور ہر تیس گائے میں ایک «تَبِیعَة» (نر یا مادہ) اور ہر چالیس گائے پر ایک «مُسِنَّة» اور ہر چالیس اونٹوں پر ایک «بِنْتَ لَبُونٍ» (دو سال مکمل والی، تیسرے سال میں داخل ہو) ہے، اور وہ کھیتی جو بارش سے سیراب ہو اس میں دسواں حصہ ہے اور جس کھیتی کو ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کیا جائے اس کا بیسواں حصہ ہے“۔