أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: فَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ خَالِدٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، وَعَدَدًا مِنْ عُلَمَاءِ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَكُلُّهُمْ حَكَى لِي عَنْ عَدَدٍ مَضَوْا قَبْلَهُمْ، يَحْكُونَ عَنْ عَدَدٍ مَضَوْا قَبْلَهُمْ، كُلُّهُمْ ثِقَةٌ: أَنَّ صُلْحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ كَانَ لِأَهْلِ ذِمَّةِ الْيَمَنِ عَلَى دِينَارٍ كُلَّ سَنَةٍ، وَلَا يُثْبِتُونَ أَنَّ النِّسَاءَ كُنَّ فِيمَنْ يُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ، وَقَالَ عَامَّتُهُمْ: وَلَمْ تُؤْخَذْ مِنْ زُرُوعِهِمْ وَقَدْ كَانَتْ لَهُمْ زُرُوعٌ، وَلَا مِنْ مَوَاشِيهِمْ شَيْئًا عَلِمْنَاهُ، وَقَالَ لِي بَعْضُهُمْ: قَدْ جَاءَنَا بَعْضُ الْوُلَاةِ فَخَمَسَ زُرُوعَهُمْ أَوْ أَرَادَهَا فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَكُلُّ مَنْ وَصَفْتُ أَخْبَرَنِي أَنَّ عَامَّةَ ذِمَّةِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ حِمْيَرَ. قَالَ: وَسَأَلْتُ عَدَدًا كَثِيرًا مِنْ ذِمَّةِ أَهْلِ الْيَمَنِ مُتَفَرِّقِينَ فِي بُلْدَانِ الْيَمَنِ فَكُلُّهُمْ أَثْبَتَ لِي لَا يَخْتَلِفُ قَوْلُهُمْ أَنَّ مُعَاذًا أَخَذَ مِنْهُمْ دِينَارًا عَنْ كُلِّ بَالِغٍ مِنْهُمْ، وَسَمَّوَا الْبَالِغَ حَالِمًا قَالُوا: وَكَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ مُعَاذٍ " أَنَّ عَلَى كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا ".امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن خالد، عبداللہ بن عمرو بن مسلم اور کئی اہل یمن سے پوچھا، وہ تمام اپنے سے قبل ثقہ آدمیوں سے نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی صلح یمن کے ذمی لوگوں کے ساتھ سال میں ایک دینار پر تھی اور عورتیں ان میں شامل نہ تھیں۔ ان کے عام لوگ بیان کرتے ہیں کہ کھیتی اور مویشیوں سے جزیہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تو اس پر انکار کیا گیا، جو بھی میں نے بیان کیا، مجھے خبر ملی کہ اہل یمن کے ذمی حمیر قبیلہ سے تھے۔ وہ کہتے ہیں: جس نے تمام اہل یمن کے ذمی افراد سے پوچھا جو مختلف شہروں کے تھے، سب کا ایک ہی جواب تھا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ہر بالغ سے سال میں ایک دینار وصول کیا اور وہ بالغ کو «حَالِم» کہتے تھے کیونکہ نبی ﷺ کا خط جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے نام تھا اس میں درج تھا کہ ”ہر بالغ پر ایک دینار ہے۔“