أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ: هَذَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا الَّذِي كَتَبَهُ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَذَكَرَهُ وَفِي آخِرِهِ " وَأَنَّهُ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ يَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ إِسْلَامًا خَالِصًا مِنْ نَفْسِهِ فَدَانَ دِينَ الْإِسْلَامِ فَإِنَّهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، لَهُ مَا لَهُمْ، وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْهِمْ، وَمَنْ كَانَ عَلَى نَصْرَانِيَّةٍ أَوْ يَهُودِيَّةٍ فَإِنَّهُ لَا يُفْتَنُ عَنْهَا، وَعَلَى كُلِّ حَالِمٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ دِينَارٌ وَافٍ، أَوْ عَرْضُهُ مِنَ الثِّيَابِ، فَمَنْ أَدَّى ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُ ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَمَنْ مَنَعَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ عَدُوُّ اللهِ وَرَسُولِهِ وَالْمُؤْمِنِينَ ". هَذَا مُنْقَطِعٌ وَلَيْسَ فِي الرِّوَايَةِ الْمَوْصُولَةِ.عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو خط عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھا جس وقت انہیں یمن روانہ کیا، اس کے آخر میں ہے کہ: ”جو یہودی یا عیسائی دینِ اسلام کو خالص نیت سے قبول کرے تو اس کے لیے مومنوں والے حقوق ہوں گے اور اس پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو مسلمانوں پر ہیں، اور جو عیسائیت یا یہودیت پر قائم رہے اس کو آزمائش میں مبتلا نہ کیا جائے گا اور ہر بالغ مذکر و مؤنث یا آزاد و غلام پر ایک دینار یا اس کے عوض کپڑا ہے۔ جس نے یہ ادا کر دیا اس کے لیے اللہ اور رسول کا ذمہ ہے اور جس نے اسے ادا نہ کیا وہ اللہ، رسول اور مومنوں کا دشمن ہے۔“